بہرائچ : اس بار انتظامیہ نے اتر پردیش کے بہرائچ ضلع کے شہری علاقہ میں واقع سید سالار مسعود غازی کی ایک ہزار سال سے زیادہ پرانی درگاہ پر ہر سال جیشٹھ کے مہینے میں ہونے والے میلے کو ملتوی کر دیا ہے ۔ یہ فیصلہ امن برقرار رکھنے اور پہلگام کے واقعات اور وقف بل پر ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کیلئے کیا گیا ہے ۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ درگاہ پانچ سو سال سے زیادہ عرصے سے ہر سال جیشٹھ کے مہینے میں میلہ لگاتی آ رہی ہے ۔ اس میلے میں مختلف برادریوں کے لاکھوں عقیدت مند شریک ہوتے ہیں۔ اس بار میلہ 15 مئی سے شروع ہونا تھا جس میں مرکزی میلہ 18 مئی کو ہونا تھا تاہم ضلعی انتظامیہ نے اس بار اسے ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں سنبھل ضلع میں مسعود غازی کے نیجا میلے پر ریاستی حکومت کی جانب سے پابندی عائد کرنے کے بعد بہرائچ ضلع کی اس درگاہ پر بھی میلے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ انتظامیہ کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں سیکوریٹی اور امن برقرار رکھنے کیلئے میلے کو ملتوی کرنا ضروری ہے ۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ مسعود غازی ایک حملہ آور تھا جس نے ہندوستان پر حملہ کرکے اس کی دولت لوٹی اور کئی مندروں کو تباہ کیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ تقریباً ایک ہزار سال قبل مہاراجہ سہیل دیو نے مسعود غازی اور اس کی فوج کو ضلع کے چتوڑہ علاقے میں ایک جنگ کے دوران شکست دی تھی۔