بیروت پر فضائی حملے ، حزب اللہ کے اعلیٰ کمانڈر ابراہیم عقیل شہید

   

بیروت : لبنان کے سیکوریٹی زرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جمعہ کو بیروت کے جنوبی مضافات میں ایک فضائی حملے میں حزب اللہ کے ایک اعلیٰ فوجی کمانڈر ابراہیم عقیل کو نشانہ بنایا جو حزب اللہ کے ایلیٹ رضوان یونٹ کے سربراہ تھے اور تقریباً ایک دہائی سے امریکی پابندیوں کی لسٹ میں شامل تھے۔ اس ہلاکت سے اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے درمیان ایک سال سے جاری تنازعہ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ نے عقیل کو گروپ میں ایک اہم رہنما کے طور پر بیان کرتے ہوئے ان کے بارے میں معلومات دینے پر اپنے ریوارڈ فار جسٹس پروگرام کے تحت ستر لاکھ ڈالر کے انعام کی پیشکش کی تھی۔ وہ غزہ جنگ پر عسکریت پسند گروپ اور اسرائیل کے درمیان تقریباً ایک سال کی جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے حزب اللہ کے دوسرے اعلیٰ کمانڈر بن گئے ہیں۔ حزب اللہ کی بیشتر عسکری قیادت کی طرح، عقیل کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب تھیں۔ انہیں گروپ کے ارکان صرف ان کے نام ڈی گورے حج عبدالقادر سے جانتے تھے۔ حزب اللہ کے قریبی ذرائع نے انہیں فواد شکر کے بعد گروپ کی عسکری قیادت میں دوسرے نمبر کے کمانڈر کے طور پر بیان کیا ہے۔ فواد شکر 30 جولائی کو حزب اللہ کے جنوبی بیروت کے گڑھ میں اسرائیلی حملہ میں ہلاک ہوئے تھے۔ لبنانی حکام نے میڈیا کو بتایا ہے کہ اسرائیل نے بین الاقوامی ثالثوں کے ذریعے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ رضوان فورس کے جنگجوؤں کو، جو گروپ کی زمینی کارروائیوں کی قیادت کرتے ہیں، سرحد سے باہر دھکیل دیا جائے۔ گروپ کے قریبی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ رضوان یونٹ حزب اللہ کی سب سے مضبوط فوجی قوت ہے اور اس کے جنگجو سرحد پار دراندازی کے تربیت یافتہ ہیں۔