بیروزگاری بھتہ سے سرکاری خزانہ پر 6000 کروڑ کا اضافی بوجھ

   

اندرون ایک ہفتہ رہنما خطوط کی اجرائی کا امکان ، اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل
حیدرآباد۔ ریاست میں گریجویٹ زمرہ کی 2 ایم ایل سی نشستوں کے انتخابات کے پیش نظر بے روزگار نوجوانوں کو خوش کرنے کیلئے حکومت نے بے روزگاری بھتہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں بہت جلد چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے اعلان کیا جائے گا۔ سرکاری محکمہ جات نے بے روزگاری الاؤنس کی اجرائی کی صورت میں خزانہ پر پڑنے والے اضافی بوجھ کا جائزہ لینا شروع کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بے روزگاری الاؤنس سے سالانہ 3600 تا 6000 کروڑ کا زائد بوجھ عائد ہوگا۔ تلنگانہ کے مختلف سرکاری محکمہ جات میں روزگار کیلئے پبلک سرویس کمیشن کے تحت تقریباً 25 لاکھ امیدوار درج رجسٹر ہیں۔ 9 لاکھ سے زائد امیدوار ایمپلائمنٹ اینڈ ٹریننگ ڈائرکٹوریٹ کے تحت اپنے نام درج کراچکے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے 2018 کے اسمبلی انتخابات میں بے روزگاری الاؤنس کے طور پر ماہانہ 3016 روپئے کا اعلان کیا تھا لیکن اس وعدہ پر عمل آوری نہیں کی جاسکی۔ ذرائع نے بتایا کہ اگر حکومت 10 لاکھ امیدواروں کو بے روزگار کی حیثیت سے نشاندہی کرکے الاؤنس جاری کرے گی تو سرکاری خزانہ پر ماہانہ 300 کروڑ کے حساب سے سالانہ 3600 کروڑ کا بوجھ عائد ہوگا۔ اگر تمام 20 لاکھ بے روزگار نوجوانوں کو الاؤنس جاری کیا جائے تو 6000 کروڑ کا خرچ آئے گا۔ حکومت کے پاس حقیقی معنوں میں بے روزگار افراد کے بارے میں اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کئی نوجوان خانگی شعبہ میں ملازمت کررہے ہیں لیکن ان کے نام حکومت کے پاس بے روزگار کی حیثیت سے درج ہیں۔ حکومت کی جانب سے حقیقی بے روزگار نوجوانوں کا پتہ چلانے کیلئے کوئی طریقہ کار یا گائیڈ لائنس موجود نہیں۔ اسی دوران وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے بتایا کہ چیف منسٹر بہت جلد بے روزگاری الاؤنس کے منصوبہ کا اعلان کریں گے۔ گائیڈ لائنس مرتب کرنے کیلئے عہدیداروں کی اعلیٰ اختیاری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ حکومت یکم جنوری 2019 سے بے روزگاری الاؤنس جاری کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے حالانکہ یہ وعدہ ڈسمبر 2018 میں کیا گیا تھا۔ بے روزگاری الاؤنس کی اجرائی کے ذریعہ ٹی آر ایس کونسل کے علاوہ مجالس مقامی کے مجوزہ انتخابات میں نوجوانوں کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔