بینکنگ شعبہ کی مارکٹ سرمایہ کاری میں خانگی بینکوں کا بہتر مظاہرہ

   

ایچ ڈی ایف سی اور آئی سی آئی سی آئی کو سبقت ، دیگر بینکوں میں ایس بی آئی ، یونین بینک اور انڈین بینک شامل
حیدرآباد۔16 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) بینکنگ شعبہ کی مارکٹ سرمایہ کاری کے معاملہ میں عوامی شعبہ کے بینکوں سے زیادہ خانگی بینکوں نے اپنی حصہ داری کے ذریعہ بہتر مظاہرہ کیا ہے۔ مارکٹ سرمایہ کاری کے اعتبار سے ملک کے 10 مختلف بینکوں کی فہرست تیار کی گئی جس میں ایچ ڈی ایف سی اور آئی سی آئی سی آئی بینکوں کو سبقت حاصل ہوئی ہے۔ زائد سرمایہ کاری کے ذریعہ خانگی بینکوں نے اپنی سرگرمیوں کو تیزی سے وسعت دی ہے اور بہتر خدمات کے نتیجہ میں کسٹمرس عوامی شعبہ کے بینکوں کے مقابلہ خانگی بینکوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ HDFC کی مارکٹ سرمایہ کاری 1100888 کروڑ ریکارڈ کی گئی جبکہ دوسرے نمبر پر مربوط ICICI کی مارکٹ سرمایہ کاری 968797 کروڑ درج کی گئی۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے مارکٹ سرمایہ کاری کے اعتبار سے تیسرا مقام حاصل کیا ہے جس کی سرمایہ کاری 883384 کروڑ ریکارڈ کی گئی۔ کوٹک مہیندرا بینک اور Axis Bank نے فہرست میں چوتھا اور پانچواں مقام حاصل کیا ہے ۔ دونوں خانگی بینکوں کی مارکٹ سرمایہ کاری 390000 کروڑ اور 385000 کروڑ درج کی گئی ہے۔ اس فہرست میں شامل دیگر بینکوں میں پنجاب نیشنل بینک ، یونین بینک آف انڈیا ، بینک آف بروڈا ، انڈین بینک اور کنارا بینک شامل ہیں۔ مارکٹ سرمایہ کاری کے اعتبار سے کنارا بینک 112000 کروڑ کی سرمایہ کاری کے ساتھ 10 ویں مقام پر ہے۔ بینکنگ شعبہ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ عوامی شعبہ کے اداروں کے مقابلہ خانگی شعبہ کے بینکوں نے بہتر خدمات اور سہولتوں کے ذریعہ کسٹمرس کو اپنی جانب راغب کیا ہے۔ صنعتی اور تجارتی شعبہ جات سے وابستہ افراد کی اولین ترجیح خانگی بینکس ہیں جبکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرس کیلئے عوامی شعبہ کے اداروں سے وابستگی کسی مجبوری سے کم نہیں۔ ہندوستان میں بینکنگ شعبہ کی سہولتوں اور شرائط میں وقتاً فوقتاً تبدیلیوں کا اثر عوامی شعبہ کے بینکوں کی کارکردگی اور کاروبار پر پڑا ہے۔ مختلف زمرہ جات میں قرض کی فراہمی میں خانگی بینکوں نے شرائط کو سہل اور آسان بناتے ہوئے کسٹمرس کو اپنی جانب راغب کیا ہے۔ حکومت کی فلاحی اسکیمات پر عمل آوری اور خاص طور پر حکومت کے پنشن اور دیگر فوائد کے اصول کیلئے استفادہ کنندگان کو عوامی شعبہ کے اداروں میں اکاؤنٹ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی شعبہ کے بینکوں کی کارکردگی کے سلسلہ میں کسٹمرس کی رائے مختلف ہے۔1/k/m/b