بینکوں کے انضمام کے خلاف 10 ڈسمبر کو پارلیمنٹ کے روبرو احتجاج

   

شاخوں کو معقول بنانے کے نام پر انہیں بند کرنے کا الزام

ممبئی ۔ 21 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مختلف سرکاری بینکوں کے ہزاروں ملازمین عوامی شعبہ کے بینکوں کے انضمام کے حکومت کے منصوبہ کے خلاف 10 ڈسمبر کو پارلیمنٹ کے روبرو احتجاج کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ حکومت نے اگست میں عوامی شعبہ کے 10 بینکوں کے انضمام کے ساتھ عالمی سطح کے چار بینکس قائم کرنے کے منصوبہ کا اعلان کیا تھا۔ 6 بینک یونینوں نے 10 ڈسمبر کو دھرنا منظم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہیکہ برانچس کو معقول بنانے کے نام پر بڑی تعداد میں شاخوں کو بند کردیا جائے گا جس سے عام آدمی کو مشکلات پیش آئیںگی۔ ملک میں بینکوں کے انضمام کے خراب اثرات ہونے کے باوجود حکومت انضمام کی پالیسی پر عمل کررہی ہے۔ اب تک ملک میں بینکوں کے انضمام کے تجربہ سے یہ واضح ہوچکا ہیکہ کسی بھی شراکت دار کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔ سرکاری بینکوں کے انضمام سے غریب اور ضرورتمند افراد کو یقینی طور پر مشکلات پیش آئیں گی۔ یونینوں کا کہنا ہیکہ بینکوں کی توجہ عام آدمی کی خدمت اور قرضوں کی وصولی سے ہٹ کر انضمام سے متعلق پیچیدگیوں پر مرکوز ہوجائے گی۔ بینکوں کے انضمام سے اجارہ داری کا ماحول پیدا ہوگیا اور بینکنگ خدمات کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوجائے گا جس سے عام آدمی کے مفادات کو نقصان پہنچے گا جن 6 بینک یونینوں سے وابستہ ملازمین نے احتجاج کیا ہے ان میں آل انڈیا بینک ایمپلائز اسوسی ایشن، آل انڈیا بینک آفیسرس کنفیڈریشن، آل انڈیا بینک آفیسرس اسوسی ایشن، بینک ایمپلائز فیڈریشن آف انڈیا، انڈین نیشنل بینک ایمپلائز اسوسی ایشن اور انڈین نیشنل بینک آفیسرس کانگریس شامل ہیں۔ قبل ازیں 22 اکٹوبر کو آل انڈیا بینک ایمپلائز اسوسی ایشن سے وابستہ ملازمین نے قومی سطح پر ایک دن کا احتجاج کرتے ہوئے سرکاری بینکوں کے انضمام کی مخالفت کی تھی۔ بینکوں کی ہڑتال سے صارفین کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ تجارت پر بھی اس کا اثر ہوتا ہے۔