واشنگٹن : تیس سے زیادہ ریپبلکن اور ڈیموکریٹک سینیٹرز نے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت میں ایک دو طرفہ قرارداد دوبارہ پیش کردی۔ سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین باب مینینڈیز نے کہا ہے کہ امریکہ اور عالمی برادری خاموش نہیں رہ سکتے، ہم آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔ جب ہم تہران کو مظاہرین کا خون بہاتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ہمیں کم از کم صاف صاف بات کرنا چاہیے۔مینینڈیز نے مزید کہا کہ امریکہ کو ہر بین الاقوامی فورم پر جبر کے معاملے کو اٹھانے کی ضرورت ہے – جیسا کہ ہم نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں یہ اقدام کامیابی سے کیا ہے۔ ہمیں مواصلات کو جام کرنے کی حکومت کی کوششوں کو روکنے میں مدد کرنی چاہیے۔ ہمیں اور ہمارے اتحادیوں کو ایرانی حکومت پر پابندیاں لگانا جاری رکھنا چاہیں۔ دریں اثنا سینیٹر جم رش نے بائیڈن سے مطالبہ کیا کہ وہ ایرانی حکومت کی جانب سے خواتین پر ظلم کے خاتمے کیلئے مزید کام کریں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اس سے قبل تصدیق کی تھی کہ وہ ایرانی حکومت کو اپنے لوگوں اور بہادر مظاہرین کو قتل کرنے کا ذمہ دار ٹھہرائے گا۔امریکی محکمہ خارجہ نے نشاندہی کی کہ ایرانی حکومت نے خطے اور دنیا میں افراتفری پھیلا رکھی ہے۔