بیوی کو 89 سالہ شوہر گزشتہ 27 سال سے طلاق دینے کوشاں

   

نئی دہلی: ایک 89 شخص جو تقریباً 40 برس پہلے اپنی اہلیہ سے الگ ہوچکا ہے اور گزشتہ 27 برسوں سے اسے طلاق دینے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس ماہ کے اوائل میں سپریم کورٹ نے بھی اس کی درخواست مسترد کردی۔ سماج میں طلاق کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا اور عموماً طلاق اسی صورت میں ممکن ہوتی ہے جب شوہر یا بیوی کی جانب سے تشدد اور ظلم کا واضح ثبوت ہو اس کے علاوہ خاندان اور سماجی دباؤ اکثر لوگوں کو ناخوش ازدواجی زندگی جاری رکھنے پر مجبور کر دیتا ہے، لیکن اس کے باوجود عدالتیں شاذ و نادر ہی طلاق کی اجازت دیتی ہیں۔ان ناقابل تردید حقائق کی تصدیق ایک بار پھر اس وقت ہوئی جب 89 سالہ ریٹائرڈ ونگ کمانڈر اور کوالیفائڈ ڈاکٹر نرمل سنگھ پنیسر نے اپنی 82 سالہ ریٹائرڈ ٹیچر اہلیہ کو طلاق دینے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جہاں ان کی درخواست مسترد ہوگئی۔دونوں کی 1963 میں شادی ہوئی اور تین بچے ہیں، تاہم 1984 میں جب نرمل سنگھ کا مدراس ٹرانسفر ہوا تو پرمجیت کور نے شوہر کے ساتھ وہاں جانے کے بجائے امرتسر میں والدین کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی تھی۔