تلنگانہ کے بیشتر اضلاع میں بی جے پی کو ہزیمت کا سامنا، مستقبل میں کانگریس کو فائدہ متوقع
حیدرآباد۔15جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں بھارت راشٹر سمیتی اور کانگریس سے مقابلہ کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس امیدوا ر نہیں ہیں اور وہ ریاست کی تمام 119 اسمبلی نشستوں پر مقابلہ کے لئے امیدواروں کی تلاش میں مصروف ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی ریاست تلنگانہ میں تمام 119 اسمبلی کی نشستوں پر اپنے امیدوار میدان میں اتارنے کے سلسلہ میں منصوبہ بندی کے دوران اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ ریاست کے بیشتر اضلاع میں امیدوار موجود نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اسی لئے اسمبلی انتخابات کے اعلان سے قبل پارٹی کو اسمبلی حلقہ کے اعتبار سے مستحکم کرنے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست میں بھارت راشٹرسمیتی اور کانگریس کے درمیان مقابلہ کے بجائے بی آر ایس بمقابلہ بی جے پی انتخابات کو یقینی بنانے کی کوشش کے دوران بی جے پی قائدین نے پارٹی اعلیٰ کمان کی جانب سے جنہیں ریاستی امور کی نگرانی تفویض کی گئی ہے انہیں دی گئی رپورٹ میں اس بات کو واضح کیا ہے کہ ریاست میں تمام 119 نشستوں پر مقابلہ کے لئے پارٹی کے پاس مضبوط امیدوار نہیں ہیں جبکہ پارٹی کو توقع ہے کہ بی آر ایس میں ٹکٹ سے محروم ہونے والے قائدین بی جے پی میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں لیکن چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے کسی بھی رکن اسمبلی کو ٹکٹ سے محروم نہ کئے جانے کے اعلان کے بعد بی آر ایس ارکان اسمبلی کی بی جے پی میں شمولیت کے آثار بھی موہوم ہوچکے ہیں اسی لئے اب پارٹی کو نئے چہروں کو ہی میدان میں اتارنا پڑے گا اس کے علاوہ برسراقتدار جماعت کے ارکان اسمبلی سے قربت رکھنے والے قائدین بھی اب بی جے پی میں شمولیت کے لئے آمادہ نہیں ہیں جبکہ کانگریس میں پارٹی کی جانب سے جن قائدین نے پارٹی کو خیر آباد کرتے ہوئے دوسری سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کرلی ہے ان حلقہ جات اسمبلی سے کانگریس نے دوسرے امیدواروں کو تیار کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی اور نہ ہی ان قائدین کو ٹکٹ سے محرومی کا خدشہ ہے اسی لئے یہ کہاجا رہاہے کہ اب کانگریس سے بھی کوئی بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کر رہا ہے بلکہ بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان جاری رسہ کشی کے دوران کانگریس کی کامیابی کی امیدکے ساتھ عوام کے درمیان رہتے ہوئے پارٹی کو مستحکم کرنے کی کوشش میں یہ قائدین مصروف ہیں۔م