بی آر ایس اور کانگریس کے ناراض قائدین سے بی ایل سنتوش کا ربط

   


بی جے پی میں شمولیت کی ترغیب، ریونت ریڈی نے سینئر قائدین کو متحرک کردیا
حیدرآباد ۔29 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ارکان اسمبلی خریدی معاملہ میں ماخوذ کئے جانے کے بعد بی جے پی کے قومی قائد بی ایل سنتوش پہلی مرتبہ آج حیدرآباد پہنچے ۔ سنتوش کے دورہ حیدرآباد کو سیاسی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جارہی ہے اور سنتوش نے بی آر ایس اور کانگریس کے ناراض قائدین سے ربط قائم کیا ہے تاکہ انہیں بی جے پی میں شمولیت کی ترغیب دی جاسکے۔ پارلیمانی حلقوں کی سطح پر بی جے پی کے توسیعی اجلاس میں شرکت کیلئے سنتوش حیدرآباد میں ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق انہوں نے رکن اسمبلی ایٹالہ راجندر سے تفصیلی ملاقات کی جس میں کانگریس اور بی آر ایس سے قائدین کے انحراف کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ بی جے پی نے دیگر پارٹیوں سے قائدین کی شمولیت کیلئے کمیٹی تشکیل دی ہے جس کے سربراہ ایٹالہ راجندر ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بی آر ایس اور کانگریس کے ناراض قائدین سے ربط قائم کیا گیا اور انہیں بی جے پی میں شمولیت کی ترغیب دی گئی ۔ ذرائع کے مطابق دونوں پارٹیوں کے بعض سینئر قائدین نے بی جے پی میں شمولیت کیلئے کچھ وقت مانگا ہے تاکہ اپنے حلقہ کے کارکنوں اور حامیوں سے مشاورت کی جاسکے۔ بی ایل سنتوش کی حیدرآباد آمد کے بعد بی آر ایس اور کانگریس کے حلقوں میں ہلچل پیدا ہوچکی ہے ۔ بی جے پی نے آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر تمام 119 اسمبلی حلقوں میں مضبوط امیدواروں کی تلاش کا کام شروع کردیا ہے ۔ 40 سے زائد حلقے ایسے ہیں، جہاں بی جے پی اپنا خاصہ اثر رکھتی ہے۔ ان حلقوں میں مضبوط امیدوار نہیں ہیں جس کے لئے بی آر ایس اور کانگریس میں تلاش شروع کردی گئی۔ حال ہی میں کانگریس کے سینئر قائدین نے ریونت ریڈی کے خلاف بیان بازی کی ، ان میں سے بعض قائدین سے بی ایل سنتوش نے ربط قائم کیا۔ سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودر راج نرسمہا نے اعتراف کیا کہ انہیں بی جے پی قیادت نے انحراف کی ترغیب دی لیکن وہ کانگریس میں برقرار رہیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس کے بعض سابق وزراء اور سابق ارکان اسمبلی بی جے پی قیادت سے ربط میں ہیں اور وہ کانگریس میں پارٹی ٹکٹ کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر کانگریس میں ٹکٹ ملنے کے امکانات موہوم ہوں تو وہ بی جے پی میں شمولیت کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ اسی دوران صدر پردیش ریونت ریڈی نے پارٹی سے انحراف کو روکنے کیلئے چوکسی اختیار کرلی ہے۔ انہوں نے بعض قائدین کو ناراض قائدین سے بات چیت کی ذمہ داری دی تاکہ انہیں بی جے پی کے جال میں پھنسنے سے روکا جاسکے۔ر