بی آر ایس حکومت کو بدنام کرنے کانگریس حکومت کا گمراہ کن وائیٹ پیپر : کے ٹی آر

   

ہر شعبہ میں ریاست کی ترقی نظر انداز، شکست ہمارے لئے اسپیڈ بریکر، تلنگانہ بھون میں جوابی وائیٹ پیپر کی اجرائی
حیدرآباد۔/24ڈسمبر، ( سیاست نیوز) سابق وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے کانگریس حکومت کی جانب سے ریاست کے مالی موقف پر اسمبلی میں پیش کردہ وائیٹ پیپر کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا اور وائیٹ پیپر کے اعداد و شمار کو چیلنج کیا۔ تلنگانہ بھون میں کے ٹی آر نے حکومت کے وائیٹ پیپر کے جواب میں پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعہ بی آر ایس کا وائیٹ پیپر جاری کیا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ بی آر ایس حکومت کو بدنام کرنے کیلئے حکومت نے گمراہ کن اعداد و شمار کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس حکومت نے 9 برسوں میں جو قرض حاصل کیا وہ 317015 کروڑ ہے لیکن حکومت نے 671757 کروڑ قرض کا دعویٰ کیا ہے۔ سابق حکومت کے وقار کو مجروح کرنے کیلئے اسمبلی میں حکومت نے ناکام تجربہ کیا۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے 9 برسوں میں کے سی آر حکومت کی ہر شعبہ میں کامیابی کی تفصیلات پیش کی اور متحدہ آندھرا پردیش میں تلنگانہ کے ساتھ کی گئی ناانصافیوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ قرض کے حصول کیلئے جو قانون موجود ہے اس کے تحت تلنگانہ کا جملہ قرض 389673 کروڑ ہے جس میں سے 72658 کروڑ متحدہ ریاست سے تسلسل میں آیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی آر ایس حکومت نے محض 317051 کروڑ قرض حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے حکومت کی ضمانت سے اور غیر ضمانتی قرض دونوں کو یکجا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ضمانت کے ساتھ 127208 کروڑ قرض حاصل کیا گیا جبکہ ضمانت کے بغیر قرض کی رقم جو مختلف کارپوریشنوں نے حاصل کی 59414 کروڑ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیول سپلائیز کارپوریشن نے عارضی انتظامات کے تحت دھان کی خریدی پر ادائیگی کیلئے 56000 کروڑ قرض حاصل کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وائیٹ پیپر میں مرکز کی جانب سے دھان کیلئے ادا شدنی 30 ہزار کروڑ کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ انہوں نے متحدہ آندھرا پردیش میں تلنگانہ پر60 برسوں میں 4.98 کروڑ خرچ سے متعلق حکومت کے دعویٰ کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی اس قدر رقم خرچ کی جاتی تو علحدہ تلنگانہ ریاست کی جدوجہد نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس نے دس برسوں میں 13.72 لاکھ کروڑ ریاست کی ترقی پر خرچ کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے روبرو بی آر ایس حکومت کو قصور وار ٹہرانے کیلئے حکومت نے گمراہ کن وائیٹ پیپر اسمبلی میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں اظہار خیال کیلئے بی آر ایس کو زیادہ وقت نہیں ملا لہذا پارٹی نے علحدہ طور پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کا فیصلہ کیا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ مرکز کی جانب سے تلنگانہ کے ساتھ جانبداری کا رویہ اختیار کیا گیا اور مرکز سے وصول طلب فنڈز کا حکومت نے وائیٹ پیپر میں تذکرہ نہیں کیا ہے۔ کالیشورم پراجکٹ پر عدالتی تحقیقات کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ پراجکٹ کے تحت ایک بیاریج میں معمولی خرابی کا بہانہ بناکر مکمل پراجکٹ کو ہی غیر معیار قرار دیا جارہا ہے۔ پراجکٹ کے تحت 50 لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈی گڈہ بیاریج میں خرابی کو درست کیا جانا چاہیئے اور بی آر ایس کالیشورم پر عدالتی تحقیقات کا خیرمقدم کرتی ہے، ہم کسی بھی طرح کی تحقیقات کیلئے تیار ہیں اور اگر غلطی ہوئی ہے تو ضرور کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس پر ناراضگی کے نتیجہ میں ریاست کے وقار کو متاثر کرنے کی کوشش ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی اور شکست دونوں میں سبق ہوتا ہے۔ بی آر ایس اپنی شکست سے سبق حاصل کریگی اور کمی اور خامیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نو سالہ بی آر ایس کے دور حکومت کو قید اور جبر سے آزادی کہنا افسوسناک ہے۔ عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجہ میں نئی ریاست حاصل ہوئی ہے اور اس کا وقار متاثر ہو تو سرمایہ کاری متاثر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں ناکامی بی آر ایس کیلئے صرف اسپیڈ بریکر کی طرح ہے۔ اس موقع پر بی آر ایس ارکان اسمبلی اور قائدین موجود تھے۔ر