حیدرآباد۔6۔مارچ۔(سیاست نیوز) تلنگانہ میں بی آر ایس اور بہوجن سماج پارٹی کے درمیان اتحاد کے ساتھ ہی بی آر ایس کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ پارٹی کے سینئر قائد اورسابق رکن اسمبلی کونیرو کونپا نے بی آر ایس سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے آج چیف منسٹر اے ریونت ریڈی سے ملاقات کی۔ سرپور کاغذنگر سے رکن اسمبلی رہے رکن اسمبلی کونیرو کونپا نے بی آر ایس سے استعفیٰ دینے کے بعد چیف منسٹر سے ملاقات کی اور کہا جا رہاہے کہ وہ جلد ہی کانگریس میں شمولیت اختیار کرلیں گے۔گذشتہ اسمبلی انتخابات میں سرپور حلقہ اسمبلی جہاں سے کونیرو کے خلاف سابق آئی پی ایس عہدیدار مسٹر آر ایس پروین کمار نے بہوجن سماج پارٹی امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کیا تھا اور ان کے سبب بی آر ایس امیدوار کو 3ہزار ووٹوں سے شکست ہوئی تھی ۔ بی ایس پی کے ساتھ اتحاد کے بی آر ایس کے فیصلہ کے ساتھ ہی یہ قیا س آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ کونیرو بی آر ایس سے علحدگی اختیار کرسکتے ہیں کیونکہ بی ایس پی امیدوار کے سبب انہیں انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اب بی ایس پی سے بی آر ایس کا اتحاد ہوچکا ہے۔ذرائع کے مطابق کونیرو نے بی آر ایس اور بی ایس پی کے درمیان اتحاد کے فیصلہ پر پارٹی قیادت کو اپنی ناراضگی سے واقف کرواتے ہوئے پارٹی سے استعفیٰ روانہ کردیا ہے۔3
انہو ںنے اپنے مکتوب استعفیٰ کی حوالگی کے بعد چیف منسٹر اے ریونت ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ بعد ازاں کہا جا رہاہے کہ وہ جلد ہی کانگریس پارٹی میں شمولیت کا ارادہ رکھتے ہیں ۔حلقہ اسمبلی سرپور کاغذنگر سے بی ایس پی کے ریاستی سربراہ آر ایس پروین کمار نے گذشتہ انتخابات کے دوران مقابلہ کیا تھا اور ان انتخابات میں بی آر ایس رکن اسمبلی کونیرو کونپا کو بی جے پی امیدوار سے 3 ہزار ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔