مقابلہ سے دستبرداری کا حکم ، پارٹی کے سنسنی خیز فیصلے سے قائدین بڑے پیمانے پر مستعفی
حیدرآباد ۔ 22 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے سربراہ سابق چیف منسٹر کے سی آر نے سنگارینی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا سنسنی خیز فیصلہ کرتے ہوئے مقابلہ سے دستبرداری اختیار کرنے بی آر ایس کی محاذی تنظیم ٹی بی جی کے ایس قائدین کو حکم جاری کیا ۔ پارٹی کے فیصلے پر ٹی بی جی کے ایس کے قائدین نے برہمی کا اظہار کیا ۔ ٹریڈ یونین قائدین نے سابق چیف منسٹر کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر استعفیٰ دے رہے ہیں اور بیشتر قائدین کانگریس میں شامل ہورہے ہیں ۔ ناراض قائدین حیدرآباد میں ایک اجلاس طلب کرتے ہوئے مستقبل کی حکمت عملی تیار کررہے ہیں ۔ ٹی بی جی کے ایس کے قائد ایم راجی ریڈی نے بی آر ایس سربراہ کے سی آر کی جانب سے مقابلہ نہ کرنے کے فیصلے کو خود کشی کرنے کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ تحریک کے دوران جنم لینے والی بی آر ایس کی محاذی تنظیم کے قائدین سے مشاورت کیے بغیر یکطرفہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔ جس کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں اور بیشتر قائدین مقابلہ کرنے کے حق میں ہے ۔ سنگارینی انتخابات کیلئے راہ ہموار ہوگئی ہے ۔ حکومت اور انتظامیہ نے انتخابات کو ٹالنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی تاہم سنٹرل لیبر کمشنر نے ایک نہیں سنی اور انتخابی تاریخ کا اعلان کردیا جس کے بعد نامزدگیاں داخل کرنے کے عمل کے ساتھ انتخابی نشان مختص کرنے کا بھی عمل مکمل ہوگیا ہے ۔ ٹریڈ یونین تنظیموں نے اپنی انتخابی مہم میں شدت پیدا کردی ۔ دریں اثناء نئی تشکیل شدہ کانگریس حکومت کی طرف سے توانائی کے سکریٹری نے انتخابات پر روک لگانے کے لیے عدالت میں ایک عبوری درخواست داخل کی لیکن ہائی کورٹ نے جمعرات کو درخواست خارج کرنے کا فیصلہ سنایا ۔ جس پر مزدور یونین اور ورکرس نے مسرت کا اظہار کیا ۔ سنگارینی انتخابات کی میعاد مکمل ہو کر کئی برس گذر گئے لیکن انتظامیہ انتخابات کرانے کے حق میں نہیں تھا سابق حکومت کی مدد سے کئی مرتبہ ملتوی کیا جاچکا ہے ۔ اگرچہ کے مزدور تنظیمیں انتخابات کرانے کا مطالبہ کررہی تھی لیکن حکومت اور انتظامیہ نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی ۔ جس کے بعد اے آئی ٹی یو سی ہائی کورٹ سے رجوع ہوئی جس کے بعد انتخابات کی راہ ہموار ہوئی ہے۔۔ ن