بی آر ایس کو ایک اور جھٹکا ‘رکن پارلیمنٹ بی بی پاٹل مستعفی

   

ظہیر آباد کی نمائندگی کرنے والے رکن لوک سبھا کی بی جے پی میں شمولیت ۔ دہلی میںمرکزی قائدین سے ملاقات
حیدرآباد یکم / مارچ ( سیاست نیوز ) لوک سبھا انتخابات سے قبل بی آر ایس کو ایک کے بعد ایک سیاسی جھٹکے لگتے جارہے ہیں جس سے انتخابی تیاریوں میں مصروف بی آر ایس قیادت فکرمند ہوگئی ہے ۔ آج حلقہ لوک سبھا ظہیرآباد کی نمائندگی کرنے والے بی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ بی بی پاٹل پارٹی سے مستعفی ہوگئے اور دہلی میں بی جے پی کے اہم قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے ۔ اسمبلی انتخابات میں شکست سے ابھرنے اور پارٹی کے مایوس کیڈر میں نیا جوش و خروش بھرنے کیلئے بی آر ایس قیادت مسلسل محنت کر رہی ہے ۔ دوسری طرف بی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ بدستور پارٹی سے مستعفی ہوتے ہوئے سنبھلنے کی کوشش کرنے والی بی آر ایس قیادت کو پریشان کر رہے ہیں ۔ چند دن قبل حلقہ لوک سبھا پداپلی کی نمائندگی کرنے والے بی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ وینکٹیش نے بی آر ایس سے مستعفی ہوکر کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی ۔ کل حلقہ لوک سبھا ناگرکرنول کی نمائندگی کرنے والے بی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ پی راملو پارٹی سے مستعفی ہوکر کانگریس میں شمولیت اختیار کی ۔ ذرائع سے پتہ چلا کہ بی جے پی نے راملو کے فرزند بھرت کو حلقہ لوک سبھا ناگرکرنول سے ٹکٹ دینے کا تیقن دیا ہے ۔ آج حلقہ لوک سبھا ظہیرآباد کی نمائندگی کرنے والے بی آر ایس رکن پارلیمنٹ بی بی پاٹل بی آر ایس سے مستعفی ہوگئے ۔ انہوں نے اپنا مکتوب استعفی پارٹی صدر کے سی آر کو روانہ کردیا اور آج ہی دہلی میں تلنگانہ بی جے پی امور انچارج ترون چوگ سے ملاقات کرکے بی جے پی میں شامل ہوگئے ۔ جس کے بعد بی آر ایس کیڈر میں مایوسی دکھائی دے رہی ہے ۔ اندرون دو ہفتہ کسی بھی وقت لوک سبھا انتخابات کیلئے شیڈول جاری ہوسکتا ہے ۔ اس سے قبل بی آر ایس قائدین بی آر ایس سے مستعفی ہو رہے ہیں جو بی آر ایس قیادت کیلئے بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ بی آر ایس کے تین ارکان پارلیمنٹ پارٹی سے مستعفی ہوچکے ہیں جس پر قیادت نے ابھی تک کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے ۔ دہلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بی جے پی کے قائد ترون جوگ نے کہا کہ بی آر ایس جلد خالی ہوجائے گی ۔ وزیر اعظم مودی کی قیادت پر اعتماد کرکے بی آر ایس ایم پیز بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں ۔ پارلیمانی انتخابات سے قبل بی آر ایس کو مزید سیاسی جھٹکنے والے ہیں۔ 2