بی جے پی اتحاد میں شامل ہونے کے بعد چندرا بابو نائیڈو کی سیاسی حکمت عملی کامیاب
حیدرآباد۔13۔مارچ(سیاست نیوز) تلگو دیشم پارٹی نے این ڈی اے میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے بھارت راشٹرسمیتی کو این ڈی اے کا حصہ بننے سے روک دیا! بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والے اتحاد این ڈی اے میں بی آر ایس کی شمولیت کے سلسلہ میں کئی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کیونکہ تلنگانہ میں اقتدار سے محرومی کے بعد بی آر ایس یکا و تنہاء ہوچکی تھی اور بی آر ایس کے کئی قائدین کانگریس اور بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے لگے ہیں۔ سابق چیف منسٹر و سربراہ بھارت راشٹرسمیتی مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کو اتنی اہمیت نہیں دی تھی اور یہ باور کروارہے تھے کہ ریونت ریڈی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کرلیں تلنگانہ میں اقتدار حاصل نہیں کرپائیں گے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کے ساتھ ہی بی آر ایس کو کنارے لگانے کا عمل شروع کردیا اور بی آر ایس میں موجود قدآور قائدین سے روابط کو بہتر بناتے ہوئے انہیں کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے کا مشورہ دینے لگے ہیں جس کے نتیجہ میں بی آر ایس سربراہ اور ان کے افراد خاندان سیاسی طور پر گھٹن محسوس کرتے ہوئے بی آر ایس پارٹی کی بقاء کے لئے این ڈی میں شمولیت اختیار کرنے اور تلنگانہ میں بی جے پی کے ساتھ انتخابی مفاہمت کے ذریعہ لوک سبھا انتخابات میں حصہ لینے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے کہ پڑوسی تلگوریاست آندھراپردیش کے سابق چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے بی جے پی قائدین سے ملاقاتوں کا آغاز کرتے ہوئے اپنی پارٹی اور جن سینا دونوں کو این ڈی اے کا حصہ بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ سے بی آر ایس‘ این ڈی اے میں شامل ہونے کا ارادہ ظاہر کرچکی تھی لیکن این چندرابابو کی این ڈی اے میںشمولیت کے بعد بی آر ایس کی این ڈی اے میں شمولیت کے امکانات موہوم ہوچکے ہیں کیونکہ بی آر ایس اور وائی ایس آر سی پی کے درمیان بہتر تعلقات اور وائی ایس جگن موہن ریڈی سے کے چندر شیکھر راؤ کی رفاقت کو دیکھتے ہوئے کہا جار ہاہے کہ سابق چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرابابو نائیڈونے سیاسی حکمت عملی و منصوبہ بندی کے ساتھ اپنے کٹر سیاسی حریف کے چند رشیکھر راؤ کو سیاسی طور پر مکمل ختم کرنے کے لئے این ڈی اے سے انہیں دور کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ تلگو دیشم اور جن سینا کے این ڈی اے میں شمولیت کے بعد بھی بھارتیہ جنتاپارٹی‘ بی آر ایس کو این ڈی اے کا حصہ بنانے کے لئے تیار ہے لیکن این ڈی اے اتحاد میں تلگو دیشم اور جناسینا موجود ہے اس اتحاد کا حصہ بننے کے لئے بی آر ایس قائدین آمادہ نہیں ہیں کیونکہ انہیں اس بات کا اندازہ ہے کہ اگر وہ این ڈی اے میں شمولیت اختیار کرتے ہیں تو ایسی صورت میں انہیں مزید گھٹن کاشکار ہوتے ہوئے این ڈی اے میں رہنا ہوگا۔3