بی آر ایس کے چند ارکان پارلیمنٹ ٹکٹ سے محروم ہوسکتے ہیں ؟

   

چند سابق ارکان اسمبلی لوک سبھا ٹکٹ کے دعویدار ۔ تلنگانہ ، مہاراشٹرا کے علاوہ دوسری ریاستوں میں مقابلہ کا امکان
حیدرآباد : /26 ڈسمبر (سیاست نیوز) اسمبلی انتخابات میں شکست سے دوچار بی آر ایس کیلئے لوک سبھا انتخابات بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں ۔ 2019 ء لوک سبھا انتخابات میں 16 حلقوں پر کامیابی کا نشانہ مختص کرکے میدان میں اترنے والی جماعت کو صرف 9 حلقوں ظہیرآباد ، ورنگل ، چیوڑلہ ، میدک ، محبوب آباد ، کھمم ، ناگرکرنول اور پداپلی پر کامیابی ملی تھی ۔ اُس وقت ٹی آر ایس موجودہ بی آر ایس حکومت میں تھی ۔ اس کے باوجود 9 حلقوں تک محدود رہی ۔ تلنگانہ میں اقتدار پانے والی کانگریس اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے میں سرگرم رول ادا کررہی ہے ۔ حکومت کی کارکردگی ابھی تک اطمینان بخش رہی ہے ۔ جس کے بعد بی آر ایس کے حلقوں میں غیر یقینی صورتحال دیکھی جارہی ہے ۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے متحدہ اضلاع ، محبوب نگر ، نلگنڈہ ، کھمم ، کریم نگر میں شاندار مظاہرہ کیا ۔ ان میں بی آر ایس صرف ایک دو اسمبلی حلقوں تک محدود ہوئی ہے ۔ جس کے پیش نظر لوک سبھا انتخابات بی آرایس سربراہ کے سی آر کیلئے بڑا چیلنج بن گئے ہیں ۔ اس پر بی آر ایس حلقوں میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے ۔ بی آر ایس قائدین اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں فرق ہونے کا پارٹی کیڈر کو یقین دلارہے ہیں ۔ بی آر ایس قیادت موجودہ 9 لوک سبھا حلقوں پر دوبارہ کامیابی کے ساتھ مزید چند حلقوں پر کامیابی کی منصوبہ بندی تیار کررہی ہے ۔ مجلس سے اتحاد کے پیش نظر سوائے حیدرآباد حلقہ کے ماباقی 16 پر توجہ مرکوز کردی ہے ۔ گزشتہ انتخابات میں کامیاب ارکان پارلیمنٹ کو کیا دوبارہ ٹکٹ دیا جائے گا یا نئے چہروں کو انتخابی میدان میں اتارا جائے گا ‘گزشتہ انتخابات میں شکست سے دوچار ہونے والوں کو دوبارہ ٹکٹ دیا جائیگا یا نئے امیدواروں کو اہمیت دی جائے گی اس پر بی آر ایس حلقوں میں بحث شروع ہوگئی ہے ۔ پارٹی حلقوں میں یہ بات زور پکڑرہی ہے کہ اسمبلی انتخابات میں امیدواروں کو تبدیل نہ کرنے سے شکست ہوئی ۔ پارٹی قیادت سے دوبارہ یہی غلطی نہ دہرانے کی بھی باتیں کی جارہی ہیں ۔ اگر موجودہ ارکان میں کسی کو تبدیل کیا گیا تو کس کو ٹکٹ دیا جائیگا اس پر بھی پارٹی حلقوں میں بحث ہورہی ہے ۔ ساتھ ہی دوبارہ ٹکٹ پانے موجودہ ارکان دوڑ دھوپ شروع کررہے ہیں ۔ اس کے علاوہ اسمبلی انتخابات میں شکست سے دوچار قائدین لوک سبھا ٹکٹ کے خواہشمند ہیں ۔ پارٹی سربراہ بھی حلقہ میدک سے مقابلہ کرسکتے ہیں ۔ اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس و کانگریس میں راست مقابلہ تھا ۔ تاہم لوک سبھا انتخابات میں کانگریس ۔ بی آر ایس اور بی جے پی میں مقابلہ کے امکانات ہیں ۔ بی آر ایس تلنگانہ کے بشمول مہاراشٹرا کے علاوہ دوسری ریاستوں میں مقابلہ کرنے کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے ۔ 2