بی آر ایس کے 10 سالہ دور میں تلنگانہ کا ہر شعبہ تباہ

   

عوامی خزانہ کا بے دریغ استعمال کیا گیا، شاد نگر میں رکن اسمبلی کی پریس کانفرنس
شادنگر۔ 3 جولائی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) شادنگر ایم ایل اے ویرلاپلی شنکر نے بی آر ایس کی اعلیٰ قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس کی دس سالہ حکومت نے تلنگانہ کو ہر شعبے میں تباہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ ریاست کی تمام سابق حکومتوں نے ملا کر تقریباً 68 ہزار کروڑ روپے قرض لیا، جبکہ صرف بی آر ایس حکومت نے 8 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ قرض لے کر ریاست کو مالی بحران میں دھکیل دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کے سی آر کے دور حکومت میں عوامی خزانے کا بے دریغ استعمال ہوا اور صرف ان کے کھانے پر ہی تقریباً 995 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ انہوں نے کے ٹی آر اور ہریش راؤ پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “تمہارے والد پہلے بروکر تھے اور اب تم دونوں جوکر بن چکے ہو۔” ویرلاپلی شنکر نے کہا کہ بی آر ایس حکومت ہر محکمہ میں بقایاجات چھوڑ کر گئی، جن میں فیس ری ایمبرسمنٹ، ڈسکام، گرام پنچایت فنڈز، سول سپلائز، ترقیاتی کاموں کے کنٹریکٹرز، آر ٹی سی اور مڈ ڈے میل اسکیم شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شادنگر میں بھی بی آر ایس حکومت نے ڈبل بیڈروم مکانات ادھورے چھوڑ دیے تھے، جنہیں موجودہ حکومت نے 10 کروڑ روپے جاری کرکے مکمل کرایا۔ ویرلاپلی شنکر نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر بی آر ایس میں ہمت ہے تو وہ بتائے کہ کانگریس کے کس ایم ایل اے نے بدعنوانی کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی آر ایس کے ہر ایم ایل اے کی بدعنوانیوں کے ثبوت ان کے پاس موجود ہیں اور اگر وہ خاموش نہ ہوئے تو ان کی تمام حقیقت عوام کے سامنے لائی جائے گی۔ اس موقع پر محمد علی خان بابر، تانڈرا وشال شراون ریڈی، رگھو، پروشوتم ریڈی، جتیندر ریڈی، سدرشن گوڑ، نلامونی شری دھر، کرشنا، رمیش، جنگاری روی، بابو نائک، جنگیا اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔