GenZ کا احتجاج، وزیراعظم سے معافی کا اعلان کرنے کے باوجود حالات قابو میں نہیں

   

مختلف گوشوں سے نریندر مودی کا ویڈیو مذاق کا موضوع، پارٹی کے ذمہ داروں کو تہذیب و مہذب معاشرہ کیلئے گیان دینے کا مشورہ

حیدرآباد۔2۔اگسٹ۔(سیاست نیوز) ملک میں GenZ احتجاج میں استعمال کی گئی زبان اور احتجاجی طلبہ کی برہمی پر وزیر اعظم نریندر مودی کے ویڈیو اور ان کو دی جانے والی گالیوں کے تذکرہ اور گالیاں دینے والوں کو معاف کرنے کے اعلان پر بھی حالات مرکزی حکومت کے قابو میں آتے نظر نہیں آرہے ہیں بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی کا دویوم قبل رات دیر گئے جاری کیاگیا ویڈیو مذاق کا موضوع بن چکا ہے اور ان کے اس انسٹاگرام ویڈیوپر بھی GenZطلبہ ویڈیو بنانے لگے ہیں بلکہ کئی گوشوں سے ان کے طلبہ کو معاف کئے جانے کے بیان پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ ’’جسے دیش سے معافی مانگنی چاہئے ‘‘ وہ دیش کو معاف کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ ملک بھر میں پائی جانے والی نریندر مودی اور امیت شاہ کے خلاف برہمی کو کم کرنے کے لئے مرکزی حکومت بالخصوص وزیر اعظم کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات ناکافی تصور کئے جانے لگے ہیں کیونکہ GenZ جو NEET امتحانات کے پرچہ کے افشاء کے خلاف احتجاج میں حصہ لیتے ہوئے دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں وہ اب طلبہ پر کئے جانے والے لاٹھی چارج‘ ان پر آنسو گیس کے گولے برسائے جانے اور پیلیٹ گن کے استعمال کے لئے امیت شاہ کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کا استعفیٰ طلب کرنے لگے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جو طلبہ پر مظالم ڈھانے کے احکام دینے والے ہیں انہیں مستعفی ہونا چاہئے ۔کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے نے بھی اب احتجاجی طلبہ کے مطالبہ کی تائید شروع کردی ہے جبکہ قائد اپوزیشن راہول گاندھی ابتداء سے ہی امیت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔نریندر مودی کے ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران جس انداز کے ویڈیو GenZ کی جانب سے تیار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر پوسٹ کئے جارہے ہیں اس میں ان کی اختراعی فکر کے ساتھ ساتھ ان کے اندرموجود برہمی بھی واضح نظر آرہی ہے۔ جنتر منتر پر احتجاج کے دوران ایک 15سالہ لڑکی کے خلاف مقدمہ کے اندراج اور اس لڑکی سے جبری طو ر پر ویڈیو تیار کرواتے ہوئے معافی منگوائے جانے کے معاملہ پر بھی طلبہ میں شدید برہمی پائی جانے لگی ہے اور الزام عائد کئے جا رہے ہیں مرکزی حکومت اپنے اختیارات کا بیجا استعمال کرتے ہوئے والدین و سرپرستوں پر دباؤ ڈالنے کے علاوہ 15 سالہ لڑکی پر مقدمات کے اندراج کے ذریعہ انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ وزیر اعظم نے اپنے ویڈیو کے دوران جنترمنتر پر استعمال کی جانے والی زبان اور لہجہ کو ’’مہذب سماج‘‘ کے لئے مضر قرار دیا تھا لیکن اس کے جواب میں GenZ نے ان کی جانب سے انتخابی مہم کے دوران استعمال کی جانے والی زبان کے علاوہ بھارتیہ جنتاپارٹی کے قائدین کی جانب سے ایوان پارلیمان ‘ کے علاوہ لائیو ٹیلی ویژن پر استعمال کی جانے والی زبان اور بی جے پی کے X کھاتوں کی جانب سے اپنے مخالفین کو دی جانے والی گالیوں کے ساتھ ان کی پارٹی کے اراکین پارلیمان و اسمبلی کی عوامی پلیٹ فارم پر استعمال کی گئی زبان سے متعلق ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے وزیر اعظم کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ اپنی پارٹی کے ذمہ داروں کو ’’تہذیب‘‘ اور ’’مہذب معاشرہ ‘‘ کا گیان دیں جو پچھلے 12 سال سے اپنے مخالفین کو گالیاں دے رہے ہیں۔3