مخالف ہندو ڈی این اے کا کانگریس پارٹی پر الزام
حیدرآباد 25 دسمبر ( سیاست نیوز ) کانگریس نے تلنگانہ کی انتخابی مہم کے دوران بی آر ایس سے بی جے پی کا خفیہ اتحاد ہونے کا الزام عائد کرکے کہا تھا کہ اسی اتحاد کی وجہ سے سابق چیف منسٹر کی دختر کویتا دہلی شراب اسکام میں ملوث ہونے کے باوجود گرفتار نہیں کیا جارہا ہے ۔ جس پر مسلمانوں نے کانگریس پر اعتماد کا اظہار کیا جس کے نتیجہ میں ریاست میں کانگریس کو اقتدار حاصل ہوا ہے ۔ آج یہ الزامات ایک طرف لیکن کے ٹی آر کی دختر کے کویتا نے آج ایک متنازعہ بیان دے کر تمام سیکولر ذہن رکھنے والوں کو مزید منتشر کردیا جب کہ وہ اے این آئی سے بات چیت میں کہا کہ کانگریس ڈی این اے میں مخالف ہندو رجحان پایا جاتا ہے ۔ انڈیا اتحاد کے حلیفوں نے سناتن دھرم کی توہین کرکے ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہونچائی کانگریس تماشائی بنی رہی ۔ حجاب پر پابندی ہٹانے کے معاملے میں راہول گاندھی وضاحت کریں ۔ کویتا نے آج حیدرآباد میں ایک نیوز ایجنسی کو انٹرویو میں کہا کہ کانگریس کا دوسرا نام دھوکہ دہی ۔ سازش اور فریب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا اتحاد میں شامل ڈی ایم کے لیڈروں نے ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہونچانے سناتن دھرم پر توہین آمیز ریمارکس کیے ۔ ہندی ریاستوں کا مذاق اڑایا گیا تو انڈیا اتحاد میں کلیدی رول ادا کرنے والی کانگریس نے کوئی جواب کیوں نہیں دیا استفسار کیا ۔ کویتا نے راہول گاندھی سے ان تبصروں اور حجاب تنازعہ پر موقف کو ظاہر کرنے پر زور دیا ۔ بی آر ایس ایم ایل سی نے کانگریس پر جھوٹے وعدے کرکے تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ان وعدوں کی تکمیل کیلئے کانگریس کو تھوڑا وقت دیا جائے گا ۔ کانگریس مقررہ وقت میں وعدوں پر عمل نہیں کرتی ہے تو پھر بی آر ایس حکومت کے خلاف جدوجہد کرے گی ۔ کویتا نے کہا کہ چند طبقات کے ووٹوں کی خاطر کانگریس کی اتحادی جماعت ڈی ایم کے کے قائدین نفرت انگیز تبصرے کررہے ہیں ۔ بعض قائدین ملک کو تقسیم کرنے کی بھی باتیں کررہے ہیں ۔ صرف سیاسی مفاد پرستی اور چند ووٹوں کی خاطر ملک اور سناتن دھرم کی توہین کرنا درست نہیں ہے ۔ ہندی زبان بولنے والی ریاستوں کو بیت الخلاء صاف کرنے والوں کی ریاستیں قرار دینا نقل مقام کرنے والے مزدوروں کی توہین کرکے مذاق اڑانا قابل مذمت ہے ۔ کویتا نے کہا کہ راہول گاندھی نے ملک کو متحد کرنے بھارت جوڑو یاترا کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ لیکن اس کے برخلاف وہ اپنی اتحادی جماعتوں کے توہین آمیز ریمارکس کو نظر انداز کررہے ہیں ۔ اگر راہول گاندھی ابتداء میں ہی سناتن دھرم پر کروڑہا ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہونچانے والوں کو مناسب جواب دیتے تو آج یہ نوبت نہیں آتی تھی ۔ انہوں نے راہول گاندھی کو انتخابی گاندھی قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انڈیا اتحاد کی قیادت کرنے والی کانگریس کو جوابدہ ہونا چاہئے ۔ راہول گاندھی خاموش رہ کر کیا پیغام دے رہے ہیں ۔ انہیں اپنا محاسبہ کرنے پر زور دیا ۔ کرناٹک میں حجاب تنازعہ پر دعمل کا اظہار کرتے ہوئے کویتا نے الزام لگایا کہ کانگریس انتخابات سے قبل چند وعدے کرتی ہے اور انتخابات کے بعد انہیں نظر انداز کردیتی ہے ۔ وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی کانگریس پارٹی کوئی تاریخ نہیں رکھتی کرناٹک میں انتخابات کے دوران کانگریس پارٹی نے حجاب پر پابندی کو برخاست کرنے کا وعدہ کیا کانگریس کو اقتدار حاصل ہونے کے 8 ماہ مکمل ہونے پر بھی ابھی تک حجاب پر سے پابندی نہیں ہٹائی گئی ۔ راہول گاندھی حجاب کے معاملے میں کانگریس کے موقف کا اظہار کریں ۔۔ ن