حیدرآباد /28 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) بی جے پی قومی قیادت کے بعد تلنگانہ بی جے پی نے ارکان اسمبلی کی خریدی کے معاملے میں ڈیامیج کنٹرول کے ساتھ ٹی آر ایس کے خلاف پلٹ وار کا آغاز کردیا ہے۔ سارے واقعہ کو ٹی آر ایس کی سازش قرار دینے اور عوام کو یقین دلانے کیلئے مندر میں قسم کھائی جاریہ ہے اور ہائی کورٹ سے رجوع ہوکر سی بی آئی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ ساری ریاست میں چیف منسرٹ کے سی آر کے علامتی پتلے نذر آتش کرتے ہوئے بی جے پی بے قصور ہونے کا عوام میں پیغام پہونچایا جارہا ہے۔ معین آباد فارم ہاوز کے معاملے میں بی جے پی پوری طرح پھنس چکی ہیں ۔ یہاں تک کے نمبر 1 اور نمبر 2 کے نام سے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی داخلہ امیت شاہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر دہلی پہونچکر اس کو قومی مسئلہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ جاری کرنے کی اطلاعات کے بعد بی جے پی کی قومی قیادت وچکس ہوگئی ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ بی جے پی کے ایک سینئیر قائد نے دہلی ٹییلفون پر مرکزی وزیر سیاحت بی کشن ریڈی تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے کے علاوہ دوسرے قائدین کو ٹی آر ایس کے خلاف پلٹ وار کرنے ضرورت پڑھنے پر گلی سے دہلی تک آر پار کی لڑائی لرنے کی ہدایت دی ۔ جس کے بعد حیدرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ٹی ار ایس کو تنقید کا نشانہ بنانے والے مرکزی وزیر جی کشن ریڈی فوری دہلی پہونچ گئے ہیں ۔ چیف منسٹر کی جابن سے دہلی میں پریس کانفرنس کرنے کے بعد مرکزی وزیر کشن ریڈی اسکا دہلی میں ہی کاونٹر کریں گے ۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے کل سے ٹی آر ایس کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں ۔ آج انہوں نے یدادری مندر پہونچکر قسم بھی کھاکر ٹی آر ایس ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت میں بی جے پی کا کوئی رول نہیں ہے ۔ رول ہونے کی قسم کھانے کا چیف نسٹر کے سی ار کو چیلنج کیا ۔ بی جے پی اس مسئلہ پر ہائی کورٹ سے بھی رجوع ہوئی ہے ۔ سارے واقعہ کی سی بی آئی یا ہائی کورٹ کے برسر خدمات جج کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کی درخواست داخل کی ہے ۔ درخواست کو ہائی کورٹ نے قبول کرلیا ۔ ساتھ ہی بی جے پی کے قائدین ٹی آر ایس کے چار ارکان اسمبلی کو پولیس اسٹیشن منتقل کرکے ان کے بیان ریکارڈ کرنے کے بجائے پولیس کی نگرانی میں انہیں پرگتی بھون منتقل کرنے پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں اور پولیس پر بھی حکومت کے دباؤ میں کام ک رنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے ۔ ان تمام موضوعات کو عوام تک پہونچانے کیلئے بڑے پیمانے کی تشیہری مہم چلانے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ بھی اس معاملہ کا سخت نوٹ لیا ہے ۔ 400 کروڑ روپئے کی سودے بازی ہونے کی اطلاعات منظر عام پر آنے کے بعد سارے معاملے پر خصوصی نظر رکھنے کی انکم ٹیکس ، انفورسمنٹ فراہم کرنے کی ان قومی تحقیقاتی ایجنسیوں کو ہدایت دے دی گئی ہے۔ پولیس کی جانب سے 15 کروڑ روپئے ضبط کرنے کا دعوی کیا جارہا ہے ۔ یہ پیسہ کس کا ہے کہاں سے لایا گیا ہے اس پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے ۔ ن