بنگلورو، 24 جولائی (یو این آئی) کرناٹک کانگریس نے جمعہ کو بی جے پی پر اس کے دور اقتدار میں ریاست کے کچھ سب سے بڑے بھرتی گھپلے ہونے کا الزام لگایا۔کانگریس نے حزب اختلاف کے لیڈر آر اشوک کے حال ہی میں سرکاری نوکریاں فروخت کئے جانے اور کرناٹک پبلک سروس کمیشن (کے پی ایس سی) کے ایک ‘ریٹ کارڈ’ بن کر رہ جانے کے الزام کو سرے سے مسترد کر دیا۔ برسرِ اقتدار پارٹی نے کہا کہ اپنے دور اقتدار کے دوران ہوئے گھپلوں کے بعد بی جے پی کے پاس بھرتی میں شفافیت پر سوال اٹھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں رہ گیا ہے ۔ کانگریس نے اپنے ایک سخت بیان میں کے پی ایس سی کے سابق چیئرمین شیو شنکرپا ساہوکار کو، جنہیں حال ہی میں اپنی بیٹی کو سرکاری عہدے پر مقرر کرنے کے الزام میں معطل کیا گیا تھا، انہیں خود 2019 میں کے پی ایس سی میں مقرر کرنے اور 2021 میں بی جے پی حکومت کے تحت چیئرمین بنانے کا الزام لگایا۔ پارٹی نے متنازعہ پی ایس آئی بھرتی گھپلے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ اس نے 545 پولیس سب انسپکٹروں کی بھرتی میں دھاندلیوں کے بی جے پی کے دور اقتدار میں ہونے کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں داخل کی گئی چارج شیٹ میں بی جے پی رہنما دویا ہگراگی کا نام شامل تھا۔کانگریس نے اپوزیشن کو گھیرنے کی کوشش میں مرکزی وزیر ایچ ڈی کمار سوامی اور بی جے پی سے نکالے گئے ایم ایل اے بسنا گوڈا پاٹل یتنال کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل دی کہ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں نے ہی پچھلی حکومت کے کام کاج پر الزامات لگائے تھے ۔ کانگریس نے بھرتی میں دھاندلی موجودہ انتظامیہ کے وقت شروع نہ ہونے کی بات کرتے ہوئے بی جے پی پر جاری جانچ کی سیاست کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔ برسرِ اقتدار پارٹی نے ویٹرنری بھرتی تنازع میں جانچ کے شفاف اور غیر جانبدارانہ ہونے کی بات دہرائی۔ انہوں نے مجرم پائے جانے والے کسی بھی شخص کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کی بات کہی، چاہے اس کا سیاسی تعلق کچھ بھی کیوں نہ ہو۔