بی جے پی قائدین کو ای ڈی اور سی بی آئی کی کارروائی کی اطلاعات

   

حالیہ کی پیش قیاسی سچ ثابت ، آئندہ ایم جناردھن کو نوٹس کی اطلاع ، ٹی آچاریہ بی جے پی قائد کا ادعا
حیدرآباد۔28۔ڈسمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں کی جانے والی سی بی آئی ‘انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور انکم ٹیکس کی کاروائیوں کی پیش قیاسی بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین کرنے لگے ہیں اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے علاوہ سی بی آئی کی جانب سے کی جانے والی کاروائی سے قبل بی جے پی قائدین کے بیانات اور اس کے بعد ہونے والی کاروائیاں پیشن گوئی ثابت ہونے لگی ہیں۔چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی دختر کے خلاف سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی کاروائی کے علاوہ ریاستی وزیر سی ایچ ملا ریڈی پر انکم ٹیکس دھاوے اور اس کے بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی کاروائی کی پیش قیاسی کے بعد ریاستی بی جے پی قائدین کی جانب سے پائلٹ روہت ریڈی کے خلاف کاروائی کے سلسلہ میں پیش قیاسی کی جاتی رہی ہے اور اب بھارتیہ جنتا پارٹی قائد ٹی آچاریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ دو یوم کے دوران بھارت راشٹر سمیتی رکن اسمبلی مسٹر ایم جناردھن کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ یا سی بی آئی کی نوٹس موصول ہونے والی ہے اور ان کے خلاف غیر محسوب اثاثہ جات رکھنے کا الزام ہے۔ بی جے پی قائد کی جانب سے کئے گئے دعوے میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت بالخصوص چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے کالے دھن کے نگران کے طور پر رکن اسمبلی ایم جناردھن ریڈی کام کر رہے ہیں اور اپنے کپڑے کے کاروبار کے ذریعہ 10ہزار کروڑ روپئے تک کی رقومات غیر قانونی طور پرحاصل کی ہیں ۔ بی جے پی قائدین کی جانب سے جن بھارت راشٹرسمیتی قائدین کے خلاف کاروائی کے سلسلہ میں پیشن گوئی کی جا رہی ہے ان کے خلاف ہونے والی کاروائیاں یہ ثابت کرنے لگی ہیں کہ جو کاروائی مرکزی ایجنسیوں کی جانب سے کی جار ہی ہے اس کی اطلاعات ریاستی بی جے پی قائدین کو موصول ہونے لگی ہیں اور وہ ان کاروائیوں کے متعلق متنبہ کرنے کے انداز میں دیگر قائدین کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔م

سرکردہ ایجنسیوں کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ اس طرح کی اطلاعات کا انکشاف افسوسناک ہے لیکن ریاست تلنگانہ میں جس طرح سے مرکزی ایجنسیوں کی جانب سے کسے ملزم بنایاجا رہاہے اور کس سیاسی قائد یا تاجر کو نوٹس موصول ہوسکتی ہے اس کی اطلاعات منظر عام پر آرہی ہیں وہ ایجنسیوںپر سیاسی اثرات کو ظاہر کررہی ہیں۔ بی جے پی قائدین جو اس طرح کی پیشن گوئیوں میں ملوث ہیں ان کا ادعا ہے کہ وہ ریاست کی سیاست میں بدعنوانیوں میں ملوث قائدین کی نشاندہی اور مرکزی ایجنسیوں کی جانب سے بدعنوانیوں کے مقدمات میں کی جانے والی تحقیقات کو دیکھتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں۔ م