پارٹی کے تئیںہمدردی پیدا ہونے کے بے بنیاد دعوے ۔ اقلیتی قائدین کا استعمال
حیدرآباد۔29۔نومبر(سیاست نیوز) مسلمانوں کے نظریات بی جے پی کے متعلق تبدیل ہونے لگے ہیں! پارٹی نے اپنے اقلیتی قائدین کے ذریعہ اس نظریہ کو عام کرنے کی کوشش کرکے مسلمانوں کو پارٹی سے قریب کرنا چاہتی ہے۔ ملک میں بی جے پی کو جس خفت کا سامنا ہے اور مہنگائی اور بے روزگاری کے متعلقہ عوام کی شکایات میں اضافہ اور اکثریتی طبقہ میں گھٹ رہی مقبولیت کے ازالہ کیلئے بی جے پی سے جو حکمت عملی تیار کی گئی ہے اس کے مطابق نہ صرف پسماندہ مسلمانوں کے مسائل کے حل اور ان کی نشاندہی کے نام پر قریب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے بلکہ بی جے پی اقلیتی قائدین کے ذریعہ عوام میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مسلمان اب پارٹی سے قریب ہونے لگے ہیں جبکہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ یو پی اور بہار اسمبلی کے نتائج کو پیش کرکے بی جے پی سے یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ اقلیتیں پارٹی سے قریب ہونے لگی ہیں اور انہیں بی جے پی پر اعتماد بڑھنے لگا ہے ۔بی جے پی قومی قیادت کے منصوبہ کے مطابق اقلیتی غالب آبادی والی نشستوں پر بی جے پی کامیابی کے ریکارڈس پیش کرکے یہ کہاجانے لگا ہے کہ اقلیتیں پارٹی سے قربت اختیار کر رہی ہیں اسی لئے ان نشستوں پر بی جے پی کو کامیابی ملی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان نشستوں پر ووٹوں کی تقسیم سے پارٹی کو کامیابی ملی تھی لیکن ووٹوں کی تقسیم سے ہونے والے اس فائدہ کو بی جے پی قائدین معصوم مسلمانوں کے درمیان جس انداز میں پیش کر رہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اکثریتی طبقہ کی ناراضگی کو دور کرنے کی بجائے بی جے پی اقلیتوں سے جھوٹی ہمدردی کا اظہار کرکے انہیں قریب کرکے ازالہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔مستقبل قریب میں انتخابات کے دوران اقلیتو ںکو رجحانے اور ان کے مسائل کی یکسوئی میں گفت و شنید کے علاوہ بی جے پی نے مسلمانوں کے درمیان رسائی حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کرلی ہے ۔م
ر