بی جے پی ‘ نئی تبدیلیاں ‘ پرانے چہرے

   

بدلتے رنگ جہاں کے ہیں یہ سبھی منظر
نیا لباس پہن کر پرانا یار ملا
بی جے پی کی جانب سے اب پارٹی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا اعلان کیا گیا ہے ۔ پارٹی کے نئے صدر بننے کے بعد نتن نابن نے اپنی ٹیم کا اعلان کیا ہے ۔ کئی نئے تقررات عمل میں لائے گئے ہیں اور کئی پرانے شہروں کو ایک بار پھر نئی ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ پارٹی نے حکومت کی تیسری معیاد کے دوران عوام تک رسائی کو بہتر اور موثر بنانے کیلئے یہ اقدامات کئے ہیں۔ ویسے بھی کسی بھی پارٹی میں کوئی نیا صدر بنتا ہے تو وہ اپنے لئے اپنی پسند کی ٹیم منتخب کرتا ہے اور قائدین کو مختلف ذمہ داریاں سونپتے ہوئے پارٹی کے کام کاج کو آگے بڑھایا جاتا ہے ۔ آج جو تبدیلیاں ہوئی ہیں وہ بی جے پی صدر کے اختیار تمیزی کے ساتھ ہوئی ہیں۔ انہیں اپنی پارٹی میں تقررات اور تبدیلیوں کا اختیار ہے اور یہ پارٹی کا داخلہ معاملہ بھی ہے ۔ تاہم چونکہ بی جے پی ملک کی حکمران جماعت ہے اور آج ملک بھر میں جو سیاسی صورتحال پائی جا رہی ہے اور آ:ے دن جو تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں ان کے پیش نظر بی جے پی میں ہونے والی یہ تبدیلیاں اہمیت کی حامل کہی جاسکتی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ پارٹی صدر نے صرف اپنی مرضی کے مطابق ٹیم منتخب کی ہو بلکہ وہ قومی سطح پر سیاسی صورتحال اور پارٹی کو درپیش حالات اور چیلنجس کو پیش نظر رکھتے ہوئے کسی بھی طرح کی تبدیلیوں کے فیصلے کرتے ہیں۔ آج بی جے پی کی تبدیلیاں بھی اسی بات کی عکاس ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ بی جے پی نے گذشتہ تقریبا دو سال سے پس منظر میں چلی گئی سابق مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کو دوبارہ پارٹی کی ذمہ داری سونپی ہے اور وہ پارٹی کی جنرل سکریٹری بنائی گئی ہیں۔ آج کی تبدیلیوں میں سب سے اہم تبدیلی پارٹی کے آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ کی تبدیلی ہے ۔ اس کے علاوہ رکن پارلیمنٹ تیجسوی سوریہ کو بی جے پی یوتھ ونگ کی ذمہ داریوں سے بھی سبکدوش کردیا گیا ہے ۔ امیت مالویہ کی جگہ آئی ٹی سیل کی ذمہ داری دیپک مہاسکے کو دی گئی ہے جبکہ ہیمنگ جوشی کو بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے نئے صدر کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔
آئی ٹی سیل کے سربراہ کی ذمہ داری امیت مالویہ طویل وقت سے نبھا رہے تھے ۔ کہا جاتا تھا کہ امیت مالویہ انتخابات کے دوران کسی بھی سیاسی مخالف کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی بنانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ تاہم اب کہا جا رہا ہے کہ گذشتہ مہینوں میں کاکروچ جنتا پارٹی نے جس طرح سے ملک کے نوجوانوں میں مقبولیت حاصل کی تھی اور جس کثیر تعداد میں لوگ سی جے پی کے آن لائین پلیٹ فارم سے جڑے تھے اس میں بی جے پی آئی ٹی سیل اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہا اور وہ سی جے پی کے اثر کو توڑ نہیں پایا ہے ۔ اس صورتحال میں امیت مالویہ کو تبدیل کیا گیا ہے جبکہ تیجسوی سوریہ کا جہاں تک سوال ہے تو وہ انتہائی اشتعال انگیز بیان بازیوں میں شہرت رکھتے ہیں اور کئی مواقع پر ان کے بیانات سے تنازعات بھی پیدا ہوئے ہیں۔ اب چونکہ ملک کے نوجوان اس طرح کے سیاسی بیانیہ کو تسلیم نہیں کر رہے ہیں اور وہ اپنے لئے روزگار ‘ تعلیم اور دیگر مواقع کی بات کر رہے ہیں تو اشتعال انگیزی انہیں پسند نہیں آ رہی ہے ۔ شائد یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ تیجسوی سوریہ کو بی جے وائی ایم کی صدارت سے علیحدہ کردیا گیا ہے ۔اسی طرح خواتین تک رسائی کو یقینی بنانے کیلئے جانے مانے چہرے کے طور پر پارٹی کی قومی جنرل سکریٹری مقرر کیا گیا ہے ۔ اسمرتی ایرانی کو گذشتہ دو برس سے تقریبا نظر انداز کردیا گیا تھا تاہم اب وہ ایک بڑی ذمہ داری کے ساتھ واپس ہوئی ہیں ۔
حالیہ عرصہ میں ملک میں جو تبدیلیاں ہوئی ہیں انہوں نے تمام ہی سیاسی جماعتوں کو اپنے طرز عمل میں تبدیلی کا آغاز کردیا ہے اور وہ ملک کے ناراض نوجوانوں اور خواتین تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور بی جے پی نے بھی اسی سمت میں پیشرفت کی ہے ۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ بی جے پی کو جس طرح سے نوجوانوں کی مخالفت اور ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اس کے اثر کو زائل کرنے اور حالات کو قابو میں کرنے کی سمت نئے تقررات کے ذریعہ کوشش کا آغاز ہوا ہے ۔