کاماریڈی میونسپل کے ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ ، چیئر پرسن کی کلکٹر کو یادداشت
کاماریڈی ۔ 25 جولائی ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) کاماریڈی میونسپل چیئرپرسن اُوما رانی سرینواس نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی میونسپل کونسل کو عوامی مسائل کے حل کا پلیٹ فارم بنانے کے بجائے اسے اپنی جماعتی سیاست کا مرکز بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے ساتھی کونسلرس اور کوآپشن ارکان کے ہمراہ ضلع کلکٹر آشیش سنگھوان اور انچارج ایڈیشنل کلکٹر گیری سے ملاقات کرتے ہوئے ایک تحریری یادداشت پیش کی، جس میں میونسپل کونسل کے اجلاسوں میں بی جے پی کے مبینہ رویے پر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس موقع پر اما رانی سرینواس نے کہا کہ بی جے پی کونسلرس کے لئے شہر کی ترقی سے زیادہ ذاتی مفادات اہم بن چکے ہیں، اسی وجہ سے وہ ہر مرحلے پر ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکمراں جماعت کی جانب سے پیش کیے جانے والے عوامی فلاح و بہبود کے تمام ترقیاتی منصوبوں کی مخالفت کی جاتی ہے اور ہر اجلاس میں ہنگامہ آرائی کرکے کارروائی کو متاثر کیا جاتا ہے، بعد ازاں اجلاس سے باہر آکر خود کو عوامی مفاد کا علمبردار ظاہر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی ارکان صرف انہی منصوبوں کی منظوری چاہتے ہیں جن میں انہیں مبینہ طور پر کمیشن حاصل ہونے کا امکان ہو، بصورت دیگر کونسل کی کارروائی کو روکنے اور بلیک میلنگ کی سیاست اختیار کی جاتی ہے۔ اب میونسپل افسران پر بدعنوانی کے الزامات عائد کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ اب تک مرکزی حکومت سے شہر کی ترقی کے لیے کوئی نمایاں مالی امداد بھی حاصل نہیں ہوئی۔ اُما رانی سرینواس نے خبردار کیا کہ اگر عوامی ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹیں جاری رہیں تو حکمراں جماعت خاموش نہیں رہے گی اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے میونسپل کونسل کی کارروائی کو معمول کے مطابق چلانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ انہوں نے بی جے پی کونسلرس سے اپیل کی کہ وہ ’’چھوٹی سیاست‘‘ ترک کرتے ہوئے عوامی مفاد کو ترجیح دیں، کیونکہ میونسپل کونسل کسی سیاسی جماعت کا دفتر نہیں بلکہ عوام کی خدمت کا ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے تمام منتخب نمائندوں کو شہر کی ترقی کے لیے منتخب کیا ہے، اس لیے کمیشن کی سیاست کے بجائے ترقیاتی عمل میں تعمیری کردار ادا کیا جانا چاہیے، بصورت دیگر عوام ہی مناسب جواب دیں گے۔ اس موقع پر میونسپل کونسلرس محمد اسحاق شیرو، محمد امجد، محمد ابدلواجد، سلطانہ، للتا، ساوتری، تحسن النساء، آفرین سلطانہ، مہیش، ببلو، جاوید، گنگادھر سمیت دیگر عوامی نمائندے بھی موجود تھے۔