ایک ہم کہ بچھڑ کر بھی منزل سے بہت خوش ہیں
ایک وہ کہ پہنچ کر بھی منزل پہ بہت روئے
بی جے پی آج ہندوستان بھر میں اقتدار پر ہے ۔ مرکز میں تو بی جے پی کی حکومت ہے ہی تاہم ملک کی بیشتر ریاستوں میں بھی بی جے پی نے اقتدار حاصل کرلیا ہے اور اس کی حکومتیں وہاں کام کر رہی ہیں۔ دارالحکومت دہلی کو حالانکہ مکمل ریاست کا درجہ حاصل نہیں ہے تاہم وہاں بھی بی جے پی نے گذشتہ انتخابات میں اروند کجریوال کی عام آدمی پارٹی کو شکست دیتے ہوئے اقتدار حاصل کرلیا تھا ۔ بی جے پی کی جانب سے اپنے اس اقتدار کا کھل کر اظہار بھی کیا جا رہا ہے ۔ بی جے پی کے کئی قائدین یہ یقین کر بیٹھے ہیں کہ اب انہیں اس ملک میں کوئی انتخابات میں شکست نہیں دے سکتا ۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ بی جے پی نے الیکشن کمیشن سے ساز باز کرلی ہے جس کی وجہ سے اسے انتخابات میں شکست کا کوئی حوف نہی رہ گیا ہے اور وہ اقتدار کے نشہا ور زعم میں من مانی انداز میں کام کر رہی ہے اور کئی ایسے فیصلے کئے جا رہے ہیں جو عوامی مفادات کے مغائر ہیں۔ گذشتہ دنوں دارالحکومت دہلی میں پیش آیا واقعہ اس کی ایک واضح مثال ہے ۔ یہاں بی جے پی کے ریاستی وزیر پرویش ورما نے ایک نوجوان کو ایک سڑک کے معائنہ کے دوران تھپڑ رسید کردیا ۔ نوجوان جب اس واقعہ کی ویڈیو گرافی کر رہا تھا تو پرویش ورما نے اس کا موبائیل بھی چھیننے کی کوشش کی اور اسے تھپڑ رسید کردیا ۔ یہ در اصل اقتدار کا زعم اور نشہ ہے جو بی جے پی قائدین کے سروں پر چڑھ کر بول رہا ہے ۔ انہیں عوام یا رائے دہندوں کا کوئی خوف نہیں رہ گیا ہے ۔ یہ قائدین یقین کر بیٹھے ہیں کہ انہیں انتخابات میں شکست ہونے کی اب کوئی گنجائش ہی نہیں رہ گئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خود اپنی ریاست اور اپنے حلقہ کے ووٹرس کو بھی خاطر میں لانے تیار نہیں ہیں اور انہیں مارپیٹ کا نشانہ بنانے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ اس سے ان الزامات کو تقویت ملتی ہے کہ بی جے پی نے الیکشن کمیشن سے سازباز کیا ہوا ہے اور کمیشن اپنی دستوری ذمہ داری پوری کرنے کی بجائے بی جے پی کی مدد کرنے پر زیادہ توجہ دئے ہوئے ہے ۔
کسی بھی عوامی نمائندہ یا وزیر کو عوامی برہمی کا سامنا کرنے کے جو واقعات پیش آتے ہیں وہ اس ملک میں نئے نہیں ہیں۔ بے شمار مواقع پر کئی قائدین اور وزراء کو عوامی برہمی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ عوام نے ملک کے وزیر اعظم کو بھی بعض مواقع پر روک کر اپنی شکایات سنائی تھیںاور ان سے ناراضگی کا اظہار بھی کیا تھا ۔ کئی ریاستوں میں وزراء کو اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جب ایسی صورتحال درپیش ہوجائے تو وزراء اور عوامی نمائندے صبر سے کام لیتے ہیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی عوامی شکایات کی تحمل کے ساتھ سماعت کرتے ہیں اور ان کے غصہ و ناراضگی کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ انہیں دوبارہ عوام سے رجوع ہونا ہوتا ہے ۔ ان کی تائید اور ووٹ حاصل کرنے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود بی جے پی کے مختلف قائدین کی جانب سے جو رویہ اختیار کیا جا رہا ہے وہ انتہائی افسوسناک بلکہ شرمناک کہا جاسکتا ہے ۔ بی جے پی قائدین شائد یہ فراموش کر بیٹھے ہیں کہ اس ملک میں جمہوریت رائج ہے اور جمہوری نظام میں ملک کے عوام ہی سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور کسی کو بھی اقتدار پر فائز کرنے یا انہیں اقتدار سے محروم کرنے کی اصل طاقت ملک کے عوام ہی کے پاس ہے ۔ بی جے پی کے قائدین کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ ظلم کا راج زیادہ وقت تک نہیں چل سکتا ۔ عوام کسی بھی وقت کسی کو بھی تخت سے تختہ پر لا سکتے ہیں اور اقتدار کا نشہ کسی بھی وقت ختم ہوسکتا ہے ۔
رائے دہندوں کو مار پیٹ کرنا یا تھپڑ رسید کرنا جمہوری عمل کی اہمیت کو گھٹانے کی کوشش قرار دیا جاسکتا ہے ۔ پرویش ورما ویسے بھی اشتعال انگیز بیانات اور نفرت کو پھیلانے والے اقدامات کیلئے شہرت رکھتے ہیں۔ ان کی جانب سے ایک نوجوان کو سر عام تھپڑ رسید کرنے کامعاملہ ان کی نظر میں بہت معمولی ہوسکتا ہے تاہم نہ صرف دہلی بلکہ سارے ملک کے اور خاص طور پر جن ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں ان ریاستوں کے ووٹرس کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کیونکہ اصل طاقت عوام کی ہی ہوتی ہے ۔