مہم کیلئے بی جے پی کی اجازت مسترد، سیاسی قائدین کے خلاف توہین آمیز مہم سے گریز کا مشورہ
حیدرآباد ۔11۔اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے خلاف بی جے پی کی جانب سے شروع کردہ تشہیری مہم کو الیکشن کمیشن نے بریک لگادیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے بی جے پی کی جانب سے تیار کردہ پوسٹر مہم پر اعتراض کرتے ہوئے اس کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ بی جے پی نے’’سالو دورا ۔ سیلوو دورا‘‘ کے عنوان سے چیف منسٹر کے سی آر کی تصویر کے ساتھ پوسٹر تیار کیا جس میں حکومت پر بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ۔ پوسٹ کے ذریعہ یہ پیام دینے کی کوشش کی گئی کہ تلنگانہ کے عوام حکومت سے ناراض ہیں اور زوال کا وقت قریب ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اس مہم پر اعتراض جتایا ہے۔ بی جے پی نے پوسٹر مہم جاری رکھنے کیلئے الیکشن کمیشن سے اجازت طلب کی تھی لیکن کمیشن نے اجازت دینے سے انکار کردیا ۔ حالیہ عرصہ میں ٹی آر ایس اور بی جے پی نے ایک دوسرے کے خلاف پوسٹر مہم کا آغاز کیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ حیدرآباد کے موقع پر ٹی آر ایس کی جانب سے شہر میں فلیکسی لگائے گئے تھے۔ بی جے پی نے جوابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے اجازت طلب کی تھی۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کے قائدین کو نیچا دکھانے اور ان کی توہین کرنے سے متعلق پوسٹر ، تصاویر اور تحریر کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ الیکشن کمیشن کی میڈیا سرٹیفکیشن کمیٹی نے بی جے پی کی اس نئی تشہیری مہم کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ بی جے پی کی جانب سے حکومت کی مختلف ناکامیوں پر شروع کردہ مہم سوشیل میڈیا میں کافی وائرل ہوئی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اجازت سے انکار کے بعد بی جے پی کو اس مہم سے دستبرداری اختیار کرنی ہوگی۔ کے سی آر حکومت کی جانب سے انتخابی منشور میں کئے گئے وعدوں خاص طور پر ہر گھر کو روزگار کی فراہمی ، کے جی تا پی جی مفت تعلیم ، ہر ضلع میں سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل کا قیام ، دلت کو چیف منسٹر بنانے، دلت بندھو ، کمزور طبقات کو تین ایکر اراضی کی فراہمی اور ایس ٹی طبقہ کے تحفظات میں اضافہ جیسے مسائل پر مہم کا آغاز کیا گیا تھا ۔ر