بی جے پی کو شمالی ہند میں بھی مسترد کیا جا رہا ہے : کے ٹی آر

   

نریندر مودی عوام کی توقعات کو پورا کرنے میں ناکام ۔ پارٹی یوم تاسیس کے موقع پر پرچم کشائی

حیدرآباد۔27اپریل(سیاست نیوز) نریندر مودی کو شمالی ہند کے عوام بھی مسترد کرنے لگے ہیں اور وہ بی جے پی کو چھوڑ کر ملک میں تبدیلی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سابق وزیر و کارگذار صدر بی آر ایس کے ٹی راما راؤ نے آج پارٹی کی یوم تاسیس کے موقع پر تلنگانہ بھون میں پرچم کشائی کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران بتایا کہ نریندر مودی نے دس سالہ دور اقتدار میں عوام سے کسی بھی وعدہ کو پورا نہیں کیا اور نہ ہی عوام کی توقعات کو پورا کرنے کی کوشش کی جبکہ وہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلاکر اقتدار پر برقرار رہے۔ کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ نے سالانہ 2کروڑ ملازمتوں کے علاوہ ملک کی معیشت کو 5ٹریلین ڈالر تک پہنچانے اور بلٹ ٹرین جیسے وعدوں سے اقتدار حاصل کیا تھا لیکن وہ دھوکہ باز ثابت ہوئے ۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں متعدد مرتبہ مودی نے فرقہ پرستی کو ہوا دینے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکے اور اب بھی وہ ملک میں فرقہ واریت کو فروغ دینا چاہتے ہیں لیکن عوام نے انہیں مسترد کرنا شروع کردیا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ شمالی ریاستوں میں مودی کو کامیابی کی امید تھی لیکن اب وہ ختم ہونے لگی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقسیم آندھرا پردیش کے وعدوں کو بھی گذشتہ 10 برسوں میں پورا نہیں کیا گیا۔ کارگذار صدر بی آر ایس نے کہا کہ بی جے پی اور مودی حکومت زوال کی سمت رواں ہے کیونکہ جنوب میں انہیں عوامی تائید حاصل نہیں ہورہا ہے۔ کے ٹی آر نے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس کو روکنے کانگریس و بی جے پی نے آپس میں مفاہمت کرلی ہے جبکہ انہیں یقین ہے کہ بی آر ایس کو 10تا12 نشستوں پر عوام کامیاب کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ مودی نے ملک میں تمام بے گھر افراد کو مکانات کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا لیکن اس کو بھی پورا نہیں کیا جاسکا ہے۔ سابق وزیر نے کہا کہ بی آر ایس نے اپنے 24 سال کے سفر میں علحدہ تلنگانہ کی تشکیل میں کامیابی کے ساتھ 10 سال اقتدار میں عوام کی خدمت کی اور پارٹی سربراہ کے سی آر نے طویل ترین عوامی جدوجہد کے ذریعہ ثابت کردیا کہ عوام ان کی جدوجہد میں ان کے ساتھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی پارٹی نے تمام طبقات سے انصاف کرکے ان کی مجموعی ترقی کیلئے کام کیا ہے۔3