پارٹی قائدین میں جوش و خروش پیدا کرنے 31 اکٹوبر کو جلسہ ۔ قومی صدر جے پی نڈا کی شرکت
بی جے پی قائدین میں تال میل اور رابطہ کے فقدان ، یکے بعد دیگرے قائدین کی ٹی آر ایس میں شمولیت پر ناراض
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ منوگوڑ ضمنی انتخاب میں بی جے پی کی کمزور انتخابی مہم اور پارٹی قائدین کی مستعفی ہو کر ٹی آر ایس میں شمولیت پر ناراض ہیں ۔ پارٹی قائدین کو گھروں میں بیٹھنے کی بجائے عوام میں پہونچنے کی ہدایت دی ۔ بی جے پی قائدین میں جوش و خروش پیدا کرنے 31 اکٹوبر کو بی جے پی قومی صدر جے پی نڈا جلسہ عام سے خطاب کریں گے ۔ ضمنی انتخاب کے ذریعہ تلنگانہ میں بی جے پی کو مستحکم کرنے اور ٹی آر ایس کو دھکا پہونچانے بی جے پی کی منصوبہ بندی بی جے پی کیلئے مہنگی ثابت ہو رہی ہے جس سے پارٹی قومی قیادت بالخصوص وزیر داخلہ امیت شاہ ، تلنگانہ کے بی جے پی قائدین سے ناراض ہیں ۔ درائع سے پتہ چلا کہ مختلف سروے میں بی جے پی کو دوسرے یا تیسرے نمبر پر دکھایا جارہا ہے اور بی جے پی قائدین یکے بعد دیگرے ٹی آر ایس میں شامل ہورہے ہیں یا بی جے پی کے سینئیر قائدین انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے رہے ہیں ۔ ضمنی انتخاب پر توجہ رکھنے والے مرکزی وزیر داخلہ اس پر سخت ناراض ہیں انہوں نے ٹیلی فون پر پارٹی قائدین سے تبادلہ خیال کیا ۔ تلنگانہ بی جے پی انچارج سنیل بنسل اور دیگر سے تفصیلات حاصل کرنے کے بعد ناراضگی کا اظہار کیا ۔ بی جے پی قومی قیادت کو جو رپورٹ ملی اس میں بتایا گیا کہ بی جے پی قائدین میں رابطہ و تال میل کا فقدان ہے ۔ جن قائدین کو انتخابی مہم کی ذمہ داری دی گئی وہ پوری طرح مہم کا حصہ نہیں ہیں ۔ دیگر ضمنی انتخاب و جی ایچ ایم سی انتخابات میں بی جے پی نے ٹی آر ایس اور کانگریس کے ناراض قائدین کو بی جے پی میں شامل کرکے عوام کو مثبت پیغام دیا تھا اب اسی پلان پر ٹی آر ایس کام کررہی ہے ۔ بی جے پی کے کئی قائدین کو ٹی آر ایس میں شامل ہوچکے ہیں یہاں تک کہ بی جے پی کے انتخابی مہم میں حصہ لینے والے کئی قائدین ٹی آر ایس سے رابطے میں ہیں ۔ ابتداء میں بی جے پی کی مہم عروج پر تھی جو بعد میں کمزور ہوتی چلی گئی ۔ اس ضمنی انتخاب میں کانگریس نے بھی ساری طاقت جھونک دی ہے ۔ اگر وہ خود کامیاب نہیں ہوگی تو بی جے پی کو کامیاب ہونے نہیں دیگی ۔ اس طرح کی رپورٹ کے بعد وزیر داخلہ امیت شاہ متحرک ہوگئے ہیں اور بی جے پی قائدین کو انتخابی حکمت عملی تبدیل کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ ذرائع سے پتہ چلا کہ بی جے پی 31 اکٹوبر کو منوگوڑ میں جلسہ عام کا اہتمام کرکے طاقت کا پور مظاہرہ کرنے کی کوشش کریگی ۔ جلسہ میں بی جے پی قومی صدر جے پی نڈا شرکت کریں گے ۔ بی جے پی کی قومی قیادت تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے کا منصوبہ بنا کر کام کررہی ہے ۔ اسی حکمت عملی کے تناظر میں بی جے پی کا قوی اجلاس شہر میں منعقد کیا گیا تھا مختلف مرکزی وزراء کو تلنگانہ کے مختلف پارلیمانی حلقوں کا انچارج بھی بنایا گیا ۔ تاہم ٹی آر ایس نے بھی تیسری مرتبہ اقتدار حاصل کرنے اور قومی سطح پر بی جے پی سے آر پار کی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس تناظر میں منوگوڑ ضمنی انتخاب ٹی آر ایس کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ وہ بھی ضمنی انتخاب میں اپنی ساری طاقت جھونک چکی ہے ۔ جس کا جائزہ لینے کے بعد امیت شاہ نے بی جے پی کے قائدین کیلئے خصوصی ہدایت جاری کی ہیں اور مائیکرو لیول کی انتخابی مہم چلانے اور تمام ووٹرس سے ایک سے زائد مرتبہ ملاقات کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔ ن