بی جے پی کے یو پی سے 8 راجیہ سبھا امیدواروں کا اعلان

,

   

اسمرتی ایرانی اور ہردیپ سنگھ پوری کے نام شامل نہیں ۔ نئے چہروں کو موقع دیا گیا
لکھنؤ، 5 اکتوبر (یو این آئی) اتر پردیش میں راجیہ سبھا کے دو سالہ انتخابات کیلئے بی جے پی نے اپنے 8 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا۔اس فہرست میں مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری اور پارٹی کی نئی جنرل سکریٹری اسمرتی ایرانی کے نام شامل نہیں ہیں جبکہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ بی جے پی انہیں امیدوار بناسکتی ہے ۔ بی جے پی کی مرکزی انتخابی کمیٹی نے اتر پردیش کی راجیہ سبھا نشستوں کیلئے دھرم پال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، ودیاساگر سونکر، گوپی کرشن پانڈے ، پرینکا سنگھ راوت، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار کے ناموں کی منظوری دے دی ہے ۔بی جے پی کے بیان میں ان آٹھ ناموں کا اعلان کیا گیا۔ پارٹی نے امیدواروں کے انتخاب میں تنظیمی تجربے و علاقائی اور سماجی مساوات کو بھی مدنظر رکھنے کی کوشش کی ہے ۔بی جے پی کی جانب سے اعلان کردہ امیدواروں میں دھرم پال سنگھ کا نام نمایاں ہے ۔ اس کے علاوہ رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، ودیاساگر سونکر، گوپی کرشن پانڈے ، پریانکا سنگھ راوت، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار کو امیدوار بنایا گیا ہے ۔اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی 10 نشستوں کیلئے 16 اکتوبر کو ووٹنگ ہونی ہے ۔ ان نشستوں پر موجودہ ارکان کی مدت نومبر میں مکمل ہو رہی ہے ۔ انتخابی پروگرام کے مطابق نامزدگی کی آخری تاریخ 6 اکتوبر ہے ۔403 رکنی اتر پردیش اسمبلی میں موجودہ عددی طاقت کے لحاظ سے بی جے پی اور اتحادیوں کی پوزیشن مضبوط ہے ۔ انتخابات میں راجیہ سبھا کی ایک نشست جیتنے تقریباً 37 ارکان اسمبلی کے ووٹ درکار ہیں۔ بی جے پی اتحاد کے پاس آٹھ نشستوں پر کامیابی حاصل کیلئے کافی عددی طاقت ہے ، تاہم موجودہ سیاسی مساوات میں آٹھویں نشست پر مقابلہ دلچسپ مانا جا رہا ہے ۔سماج وادی پارٹی نے پہلے ہی پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوانی کو امیدوار بنایا ہے ۔ ایس پی کے پاس اپنی عددی طاقت کے مطابق دو نشستیں جیتنے کی پوزیشن ہے ۔ تاہم پارٹی تیسری نشست کیلئے کوشش کر سکتی ہے ، جس سے انتخابات میں سیاسی جوڑ توڑ اور کراس ووٹنگ کے امکانات پر بحث تیز ہو گئی ہے ۔راجیہ سبھا انتخابات کو آئندہ سال یو پی اسمبلی انتخابات سے پہلے بی جے پی اور ایس پی دونوں کیلئے اہم مانا جا رہا ہے ۔ دونوں جماعتوں کی نظر اپنے اپنے ارکان اسمبلی کو متحد رکھنے کے ساتھ دوسرے خیمے میں نقب لگانے پر بھی ہے ۔