بی سی تحفظات کے لئے تمام قانونی اُمور کا سامنا کرنے تیار : بھٹی وکرامارکا

   

بی جے پی اور بی آر ایس تحفظات کے حق میں نہیں، پارلیمنٹ میں بل کی منظوری کا مطالبہ
حیدرآباد 22 جولائی (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے کہاکہ پسماندہ طبقات کو 42 فیصد تحفظات کی فراہمی کے لئے حکومت تمام قانونی مسائل کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہے۔ سکریٹریٹ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہاکہ طبقاتی سروے کی بنیاد پر بی سی طبقات کو 42 فیصد تحفظات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بی جے پی ابتداء سے ہی طبقاتی سروے کی مخالفت کررہی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے راہول گاندھی کے نظریہ کی تکمیل کرتے ہوئے طبقاتی سروے کا اہتمام کیا جو ملک کے لئے رول ماڈل ثابت ہوا۔ راہول گاندھی کے دباؤ کے تحت وزیراعظم نریندر مودی نے قومی سطح پر ذات پات پر مبنی مردم شماری کا اعلان کیا ہے۔ 42 فیصد تحفظات کا بل صدرجمہوریہ کے پاس زیرالتواء ہے۔ پارلیمنٹ میں بل کی منظوری کے لئے تمام پارٹیوں کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ اسمبلی میں جن پارٹیوں نے تائید کی تھی اُنھیں پارلیمنٹ میں بھی تائید کرنی چاہئے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے مطابق گورنر کی جانب سے آرڈیننس کی منظوری کے فوری بعد مجالس مقامی میں 42 فیصد تحفظات پر عمل آوری کی جائے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ بی جے پی صدر رامچندر راؤ نے جو لیگل نوٹس روانہ کی ہے اُس کا مناسب جواب بھیجا جائے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بی جے پی اور بی آر ایس پر بی سی تحفظات کی راہ میں رکاوٹ کا الزام عائد کیا۔1