حیدرآباد: ایپکس کونسل نے حیدرآباد کرکٹ اسوسی ایشن (ایچ سی اے) میں اپنے تقررات کا سلسلہ جاری رکھا ہے جسے ایچ سی اے کے صدر اور ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد اظہر الدین نے اسے غیر قانونی قراردیا ہے۔ سکندرآباد کے جم خانہ گرائونڈ پر ایک تقریب کا انعقاد عمل میں آیا جہاں کمیٹی کے 11 اپریل کے سالانہ جلسہ عام میں اعلان کردہ مختلف کمیٹیوں کے مقررہ خطوط حوالے کئے گئے لیکن اظہر الدین نے ایک مرتبہ پھر ان تقررات پر سوال اٹھایا اور کہا کہ یہ دستور کے خلاف ہے۔ دوسری جانب آر وجیانند نے کہا ہے کہ یہ اسوسی ایشن کے کسی اصول کے خلاف نہیں ہے۔ اظہرالدین کا موقف ہے کہ یہ ایک غلط فیصلہ ہے جس میں غیر مجاز تقررات کرنے کے علاوہ انہیں خطوط بھی سونپے جارہے ہیں۔ میں ان تقررات کو تسلیم نہیں کرتا۔ اظہرالدین نے مزید کہا کہ مجھے کسی بھی عہدے، وعدے، معاوضے یا اعزاز کے علاوہ کسی بھی دوسری نجی فائدے کے لیے ایچ سی اے کے صدر اور ایپکس کونسل کے رکن کی حیثیت سے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ دریں اثناء اس وقت سب کی نظریں 29 مئی کو بی سی سی آئی کے ہونے والے ورچول اجلاس پر مرکوز ہیں جس میں اظہرالدین بطور ایچ سی اے کے صدر حیدرآباد کرکٹ اسوسی ایشن کی نمائندگی کریں گے۔ علاوہ ازیں ایپکس کونسل نے بی سی سی آئی کو ایک مکتوب تحریر کیا ہے جس میں ہندوستان کے سابق ٹسٹ آف اسپنر شیولال یادو کے لیے اجلاس میں شرکت کے لیے پاسورڈ طلب کیا گیا ہے۔ ایپک کونسل کے ذریعہ 85 ویں اے جی ایم نے تقررات کو حتی شکل دی گئی جس میں متعلقہ افراد کو سکریٹری، جوائنٹ سکریٹری، نائب صدر اور خزانچی کے ساتھ کلب کے چند ارکان کی موجودگی میں خطوط بھی دیئے گئے ہیں۔ کرکٹ ایڈوائزری کمیٹی میں شامل کئی افراد کے ناموں کو بھی واضح کیا گیا ہے جس میں کئی اہم نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایمپائر کمیٹی، ٹیکنیکل کمیٹی اور گورننگ کونسل کے علاوہ ٹیکنیکل اینڈ فینانس کے عہدے پر بھی تقررات ہوئے ہیں۔