پونم پربھاکر کی قیامگاہ پر بی سی قائدین کا اجلاس، سیاسی نمائندی میں اضافے کیلئے متحدہ جدوجہد، فنڈس کی اجرائی کیلئے چیف منسٹر سے نمائندگی
حیدرآباد۔9 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ میں پسماندہ طبقات (بی سی) کی بھلائی کے لئے وزیر بہبودیٔ پسماندہ طبقات پونم پربھاکر کی قیام گاہ پر عوامی نمائندوں کا اجلاس منعقد ہوا۔ وزراء کونڈا سریکھا، وی سری ہری کے علاوہ بی سی طبقات سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں اور سینئر قائدین نے اجلاس میں شرکت کی اور بی سی طبقات کے لئے بجٹ میں علیحدہ سب پلان کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں پسماندہ طبقات کو درپیش مسائل اور ان کی اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لیا گیا۔ بی سی طبقات کی بھلائی کے لئے آئندہ حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 14 اگست کو حیدرآباد میں مہاتما جیوتی راؤ پھولے اور ساوتری بائی پھولے کے مجسمے نصب کئے جائیں گے۔ ٹینک بانڈ پر 18 اگست کو سردار سروے پاپنا کے مجسمے کی تنصیب کا فیصلہ کیا گیا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کو مجسموں کی نقاب کشائی میں مدعو کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پسماندہ طبقات کے مسائل پر چیف منسٹر سے نمائندگی کی جائے گی اور بی سی طبقات کے لئے علیحدہ سب پلان کی اپیل کی جائے گی۔ بی سی طبقات سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں اور قائدین کو مجسموں کو نقاب کشائی کے موقع پر بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کی گئی۔ ریاست میں پسماندہ طبقات کی آبادی کے تعین کے لئے سروے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ تاہم اجلاس کے شرکاء کا احساس تھا کہ بی سی طبقات کی ترقی اور بھلائی کے نشانوں کی تکمیل نہیں ہو رہی ہے۔ پسماندہ طبقات کی سماجی، معاشی اور سیاسی ترقی کے لئے مناسب فنڈس کی منظوری اور علیحدہ سب پلان کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ تلنگانہ بی سی کمیشن کو مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ پسماندہ طبقات کے مسائل کی یکسوئی کے لئے مدد دی جاسکے۔ فیس ریمبرسمنٹ کے بقایاجات کی بی سی طلبہ کے لئے مرحلہ وار اجرائی کی نمائندگی کی جائے گی۔ بی سی ویلفیر ڈپارٹمنٹ کے ذریعہ عمل کی جارہی فلاحی اسکیمات کے فوائد کو بنیادی سطح تک پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا۔ قائدین کا کہنا تھا کہ معاشی، سماجی اور سیاسی ترقی کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ ریاست میں مختلف بی سی طبقات کے لئے علیحدہ بھونس کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا۔ کانگریس کو بنیادی سطح پر مستحکم کرنے کے لئے بی سی طبقات کو متحرک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بی سی طبقات کے قائدین نے عہد کیا کہ وہ مسائل کی یکسوئی کے لئے متحدہ جدوجہد کریں گے اور سیاسی سطح پر نمائندگی میں اضافے کی مساعی کی جائے گی۔ 1؍F