’تاریکی کا ایک برس‘ مسلم حکمرانوں کے نام افغان لڑکیوں کا خط

   

کابل :افغانستان میں لڑکیوں کے لیے سیکنڈری اسکول میں تعلیم حاصل کرنے پر پابندی کو ایک سا ل ہو گیا ہے۔ اس موقع پر افغان لڑکیوں نے عالمی رہنماؤں کے نام ایک جذباتی خط میں اپنے حقوق کی پامالی کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی ہے۔امریکی افواج کے انخلاء کے بعد طالبان نے گزشتہ برس اگست میں افغانستان پر حکومت قائم کر لی تھی۔ اگرچہ عالمی برادری نے ابھی تک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے، تاہم عملی طور پر وہی وزارتیں سنبھالے ہوئے ہیں۔ اب تک فیصلہ سازی میں سخت گیر نظریات کے حامل دھڑے کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے۔ ستمبر 2021 میں ساتویں سے لے کر بارہویں جماعت کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی بھی اس کی عکاس ہے۔ علاوہ ازیں خواتین کے لباس، ان کیباہر آنے جانے، ملازمت اور دیگر امور پر قدغنیں لگائی جاتی رہی ہیں۔اتوار کے روز جاری کردہ ایک بیان میں اقوام متحدہ نے افغان طالبان کی خواتین، بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی روکنے کے حوالے سے پالیسی پر گہری تشویش ظاہر کی۔ ادارے کے مطابق مذکورہ پالیسی ملک کو درپیش اقتصادی بحران کو بدتر بنانے کے علاوہ غربت، عدم تحفظ کی فضا اور تنہائی میں اضافے کا باعث بنے گی۔