عامر علی خاں
ہمارے ملک میں اس وقت صرف راہول گاندھی کی پریس کانفرنس اور اس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر لگائے الزامات کے چرچے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جس طرح GEN-Z کی وجہ سے حالیہ عرصہ کے دوران مودی جی امیت شاہ جوڑی کے برے دن آپہنچے ۔ اُسی طرح اب گیانیش کمار کے خراب دن آگئے ہیں۔ دہلی میں راہول گاندھی نے ایک غیرمعمولی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے دست راز سمجھے جانے والے امیت شاہ پر جو سنگین الزامات عائد کئے ہیں ان الزامات سے ملک کے سیاسی میدان میں ایک نئی جنگ چھڑ گئی ہے ۔
راہول گاندھی نے نہ صرف چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا بلکہ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ہمارے عزت مآب وزیراعظم نریندر مودی جی اور وزیر داخلہ امیت شاہ ملک کے انتخابی نظام کو کمزور کرنے کی سازش میں سرفہرست ہیں۔ 56 سالہ راہول گاندھی لوک سبھا میں قائد اپوزیشن ہیں چند برسوں میں اُنھوں نے اپنی یاتراؤں بھارت جوڑو یاترا ، بھارت جوڑو نیائے یاترا ، ووٹ ادھیکار یاترا اور چھاتروں کی گونج ( طلبہ کی گونج ) جیسی مہم کے ذریعہ مودی امیت شاہ جوڑی پر ہیبت طاری کردی ہے۔
انھوں نے نیٹ پیپر لیک کے خلاف طلبہ کاجس طرح ساتھ دیا اس کے نتیجہ میں ملک کے نوجوان اب ان کی کھل کر تائید اور مودی جی کی کھل کر مخالفت کررہے ہیں ۔ ایک طرح سے راہول گاندھی اُن کی بہن پرینکا گاندھیلا کا کروچس اور اب انڈین ایکسپریس کے صحافیوں نے اپنی تحقیقاتی رپورٹنگ کے ذریعہ عوام کو مودی حکومت کے خوف سے آزاد کروایا ہے ۔ واضح رہے کہ راہول گاندھی نے ستمبر 2022 ء تا جنوری 2023 ء جملہ 145 دن تک بھارت جوڑو یاترا کے ذریعہ 12 ریاستوں اور دو مرکزی زیرانتظام علاقوں کا احاطہ کیا ( جملہ 4080 کلومیٹر تک یہ یاترا جاری رہی ) اسی طرح 14 جنوری 2024 ء کو انھوں نے منی پور کے تھاویل سے بھارت جوڑو نیائے یاترا کا آغاز کیا اور 16 مارچ 2024 ء کو ممبئی میں اس کا اختتام عمل میں آیا ۔ اس یاترا کے ذریعہ انھوں نے 66 دن میں 6713 کلومیٹر کااحاطہ کیا ۔ اس طرح ووٹ چوری اور ای وی ایم میں ہیرا پھیری کے خلاف راہول گاندھی نے ووٹ ادھیکاری یاترا کے تحت 15 دن میں 1300 کلومیٹر کا احاطہ کیا ۔ اس دوران انھوں نے عوام کو اُن کے حق رائے دہی کی اہمیت اور جمہوری حق سے واقف کروایا ۔
بہرحال راہول گاندھی نے اپنی تازہ ترین پریس کانفرنس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی اور امیت شاہ کے خلاف جو سنگین الزامات عائد کئے ہیں اس پر عوام کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ راہول جی نے صرف الزامات ہی عائد نہیں کئے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اُن کے پاس ان الزامات کو ثابت کرنے کیلئے بہت کچھ ہے ۔
سب سے خطرناک بات یہ ہوئی کہ ہمارا انتخابی نظام بنیادی طورپر تباہ ہوگیا ہے اور ہمارا ووٹ ہم سے چھین لیا گیا ہے ۔ راہول گاندھی نے مودی ، امیت شاہ اور گیانیش کمار پر ہی الزامات عائد نہیں کئے بلکہ مشیر قومی سلامتی اجیت ڈوبھال کو بھی اس معاملہ میں گھسیٹ لیا ۔ اُن کے خیال میں یہ حقیقت میں دستورِ ہند پر حملہ ہے ۔ راہول گاندھی نے ملک میں جمہوریت کو تباہ کرنے والوں کے ناموں کا حوالہ بھی دیا جن میں وزیراعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امیت شاہ ، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ، آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت ، مشیر قومی سلامتی اجیت دوبھال ، پی کے مشرا صنعت کار گوتم اڈانی ، وزیر فینانس نرملا سیتا رامن ، دھرمیندر پردھان ، امیت شاہ کے بیٹے جئے شاہ ، بابا رام دیو ، پیوش گوئل، کنگنا رناوت ، ارنب گوسوامی ، رجت شرما وغیرہ شامل ہیں۔
انھوں نے گیانیش کمار سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا ۔ دوسری طرف کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے بھی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے اندرون 48 گھنٹے اپنے عہدہ سے مستعفی ہوجانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ انھوں نے مستعفی نہ ہونے پر ملک گیر احتجاجی مظاہرے شروع کرنے اور جنتر منتر 2.0 کی دھمکی بھی دے ڈالی ۔ کانگریس پارلیمنٹ میں گیانیش کمار کے خلاف تحریک مواخذہ پیش کرنے کی تیاریاں کررہی ہے۔ بہرحال اب دیکھنا یہ ہوگا کہ مودی اور امیت شاہ راہول گاندھی کے سنگین الزامات اور مطالبات کا کس طرح جواب دیتے ہیں ۔ وہ جواب دیں یا نہ دیں ایک بات ضرور ہے کہ مودی ۔ شاہ جوڑی فی الوقت پریشان ضرور ہے اور آنے والے دنوں میں دونوں میں سے کسی ایک کو قربانی دینی ہوگی ۔
ویسے بھی پچھلے 12 برسوں سے مودی جی اور امیت شاہ کے غرور و تکبر کی بہت ساری داستانیں منظرعام پر آئی ہیں۔ دونوں کے بارے میں اپوزیشن لیڈروں اور سماجی و انسانی حقوق کے جہدکاروں کا یہی کہنا ہے کہ ان لوگوں نے جیسے مرکزی اداروں کی آزادی سلب کرلی ہے ۔ غرور تکبر میں مبتلا ہر حکمراں ہر سیاستداں اور ہر سیاسی جماعت کو یہ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ کسی کا بھی اقتدار ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے ۔ آج کوئی تخت پر ہے کل تختے پر ہوگا ۔ کسی شاعر نے کیاخوب کہا ہے ؎
نہ کر غرور اگر تو کمال رکھتا ہے
کہ ہر ہر عروج یہاں پر زوال رکھتا ہے
اُنھیں جان لینا چاہئے کہ ہر عروج کا زوال ہوتاہے۔ ہمارے ملک میں پچھلے بارہ سال سے ہرروز ایک نیا مسئلہ چھیڑا جارہا ہے ۔ کبھی ای وی ایم ، کبھی SIR ، کبھی داڑھی ٹوپی ، کہیں مندر مسجد ، شمشان ۔ قبرستان ، کبھی لباس ، کبھی غذا ۔ غرض ملک کے سلگتے عوامی مسائل بشمول آسماں کو چھوتی مہنگائی ، بیروزگاری کی بڑھتی شرح ، وباء کی طرح بڑھتی رشوت خوری ، بدعنوانی اور ناانصافیوں کی برائیوں ، خواتین کے جنسی استحصال کے مسلسل پیش آرہے عبرتناک واقعات ، بڑھتی فرقہ پرستی ، مسلمانوں ، عیسائی اور دلتوں پر بڑھتے مظالم جیسی لعنتوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے عجیب و غریب ناٹک رچے جارہے ہیں ، ڈرامہ بازی ہورہی ہے ۔ شائد ایوانِ اقتدار میں بیٹھے چند عناصر بھی اس غلط فہمی بلکہ خوش فہمی کا شکار ہیں کہ اُن کی تقدیر میں صرف عروج ہی عروج ہے ۔ ایک بات ضرور ہے کہ گیانیش کمار نے جو راز صاحب کے کہنے پر چھپائے رکھے تھے اُن پر دبیز پردے ڈالدیئے تھے انڈین ایکسپریس کی رپورٹر رتیکا چوپڑہ نے ان رازوں کو فاش کرکے رکھدیا جس سے ملک کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔
صاحب اور شاہ دونوں کافی پریشان ہیں کیونکہ حالیہ عرصہ کے دوران وہ خود محسوس کرنے لگے ہیں کہ ایک مصیبت جاتے ہی اُن پر دوسری مصیبت آٹپکتی ہے ۔ انڈین ایکسپریس نے پہلی مرتبہ ایسا نہیں کیا ہے اس کی ایک طویل تاریخ ہے ۔ پچھلے بارہ برسوں کے دوران دستور اور قانون کے نام پر جو کچھ غیردستوری اور غیرقانونی ہورہا تھا اُس کو انڈین ایکسپریس نے منظرعام پر لاکر مودی ۔ شاہ جوڑی پر ہیبت طاری کردی ۔ ایسے میں کسی نہ کسی کو تو بلی کا بکرا بنایا جائے گا اور وہ بلی کا بکرا کون ہوگا آنے والا وقت اِس کے بارے میں بہتر بتائے گا ۔
اگر ہم انڈین ایکسپریس کی بات کرتے ہیں تو اس کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ بیبیاک صحافت کی ایک مثال ہے اور اس میں تحقیقاتی صحافت کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے ۔ خاص طورپر سیاسی بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنے میں اس کا جواب نہیں ۔ رامتناتھ گوئنکا نے 1932 ء میں اسے شروع کیا اور وہ Journalism of Courage کے اپنے مقصد کو اپناکر کرپشن کو بے نقاب کرتا رہا ۔
1975-77 ء میں اُس وقت کی وزیراعظم اندراگاندھی نے جب ملک میں ایمرجنسی نافذ کی اور پریس کو سنسر کرنا شروع کیا ۔ انڈین ایکسپریس نے اپنے ایڈیٹوریل کالموں کی جگہ بالکل خالی رکھی تاکہ حکومت کو یہ احساس دلاسکے کہ میڈیا کی یہ مزاحمت ہے ۔ بہار کے پولیس عہدیداروں نے جان بوجھ کر 30 سے زائد زیردریافت قیدیوں کو تیزاب کے ذریعہ اندھا کردیا تھا ، پولیس والوں کے اس ظلم کو منظرعام پر لانے میں تحقیقاتی صحافت کے ایک اہم صحافی ارون سنہا نے اہم کردار ادا کیا۔ آپ کو 1980 ء کا بوفورس اسکینڈل بھی یاد ہوگا جس میں 1437 کروڑ روپئے کی رشوت لی گئی تھی ۔ ہتھیاروں کی یہ معاملت حکومت ہند اور سویڈن کی AB Bofors کے درمیان ہوئی تھی جس کے تحت ہندوستانی فوج کیلئے howitzer guns کی سپلائی کی گئی ۔ 1987 ء میں سویڈش ریڈیو نے انکشاف کیا کہ بوفورس نے رشوت دی ہے ۔ نتیجہ میں راجیو گاندھی حکومت زوال کا شکار ہوگئی ۔
1981 ء میں صحافی اشونی سرین نے کملا نامی ایک خاتون کو 2300 روپئے میں خریدکر سامنے لایا تاکہ مختلف ریاستوں میں جسم فروشی کو بے نقاب کیا جاسکے ۔ نتیجہ میں کئی اصلاحات کئے گئے ۔ انڈین ایکسپریس نے حالیہ دنوں میں ICIJ انٹرنیشنل کنسوریشم آف انوسٹی گیشن جرنلسٹس کے ساتھ ملکر پناما پیپرس ، پیراڈائیز پیپرس اور پنڈورا پیپرس کا افشاء کیا جس سے عالمی سطح پر اور ہندوستان میں بھی ہلچل مچ گئی ۔ اسی طرح روزنامہ سیاست نے بھی اپنی تحقیقاتی رپورٹس کے ذریعہ مکہ مسجد بم دھماکہ ، سہراب الدین انکاونٹر ، رامچندرن کیس ، عشرت جہاں انکاونٹر ، 100 بے قصور اقلیتی نوجوانوں کی گرفتاریوں ، اقلیتوں سے متعلق اہم مسائل ، اوقافی جائیدادوں ، ایرپورٹ یا جامعہ نظامیہ اور اُردو اکیڈیمی کی قیمتی جائیدادوں کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹس کے ذریعہ کئی عناصر کو بے نقاب کیا ۔