حیدرآباد ۔ 11 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : آندھرا پردیش ڈپٹی چیف منسٹر پون کلیان نے ٹی ٹی ڈی عہدیداروں ، بورڈ کے چیرمین ، ایگزیکٹیو آفیسر ، ایڈیشنل ایگزیکٹیو آفیسر اور بورڈ ممبروں سے کہا کہ وہ تروپتی میں چہارشنبہ کی رات کی بھگڈر میں 6 یاتریوں کی موت کے لیے لوگوں سے معافی مانگیں ۔ عقیدت مندوں کی موت نے مجھے بہت تکلیف پہنچائی ہے ۔ یہ واقعہ اس وقت ہوا جب ہماری نو منتخب حکومت پہلا سنکرانتی تہوار منا رہی تھی ۔ انہوں نے ضلع کا کیناڈا کے پیتھاپورم میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیا ۔ یہ حکومت عوام نے منتخب کی تھی ہمیں عوام کے سامنے جوابدہ ہونا چاہئے ۔ میں نے ان اموات کے لیے لوگوں سے معافی مانگی ۔ یہاں تک کہ کچھ لوگ جو حکومت کا حصہ ہے غلطیاں کی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی ڈی کے چیرمین بی ار نائیڈو ، ای او شرمیلا راؤ اور اے ای وینکیا چودھری ، اعلیٰ عہدوں پر تھے اور ان کی طرف سے موت کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے لوگوں سے معافی مانگنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اگر ٹی ٹی ڈی کے اعلیٰ عہدیدار معافی مانگتے ہیں تو وہ لوگ زندہ نہیں ہوسکتے لیکن انہیں سامنے آکر اپنی غلطی کو قبول کرنا چاہئے ۔ پون کلیان نے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ اپنے سامنے کی تکلیف دہ صورتحال کو ذہن میں رکھے اور اسے دیکھ کر خوشی میں اونچی آواز میں چیخنا اور چلانا بند کریں ۔ انہوں نے ٹی ٹی ڈی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ رہنماؤں کو وی آئی پی ٹریٹمنٹ دینا بند کردیں اور عام لوگوں کو بہتر سے بہتر خدمات فراہم کرنے کو ترجیح دیں ۔ انہوں نے پولیس پر زور دیا کہ وہ امن و امان کو سختی سے برقرار رکھے اور ان نوجوانوں کو پکڑے جو لڑکیوں اور خواتین کو پریشان کرتے ہیں اور گانجہ کے عادی ہیں۔ پون کلیان نے سڑک حادثہ میں ہلاک ہونے والے دو نوجوان جو فلم ’ گیم چینجر ‘ دیکھ کر بائیک پر لوٹ رہے تھے دونوں مہلوکین کے افراد خاندان اور ان کے افراد خاندان کے متعلق عہدیداروں سے دریافت کیا ۔۔ ش