ترکیہ کا اسرائیل کیخلاف مقدمہ میں شامل ہونے کا اعلان

   

انقرہ ؍ تل ابیب : ترکیہ نے عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کے کیس میں شامل ہونے کے لیے اپنی درخواست باقاعدہ طور پر جمع کرادی ہے۔ترکیہ خبرایجنسی انادولو کی رپورٹ کے مطابق ترکیے کے نائب صدر سیودیت یلماز نے بتایا کہ اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی کے معاملے پر ذمہ دار ٹھہرانا ضروری ہے۔سیودار یلماز نے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے ملک کی جانب سے تیار کی گئی جامع فائل قانون کی بالادستی اور اسرائیل کو مجرم ٹھہرانے کے حوالے سے اہم اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ انسانی اقدار، بین الاقوامی قانون اور اداروں پر اعتماد اس حوالے سے جڑا ہوا ہے کہ یہ عمل کیسے منطقی انجام کو پہنچتا ہے۔ترک نائب صدر نے بتایا کہ ہم اس کیس کی پیروی اس وقت تک کریں گے جب تک گزشتہ اکتوبر سے 40 ہزار بے گناہ فلسطینیوں کو شہید کرنے والے نسل کشی کے مرتکب اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو اور اس کی حکومت کو سزا نہیں دی جاتی جس کے وہ حق دار ہیں، ہم اس وقت فلسطین سے تعاون جاری رکھیں گے جب تک 1967ء کی سرحد کے مطابق آزاد خود مختار فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے غزہ کے حوالے سے مذاکرات کے لیے ایک وفد 15 اگست کو بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ اور دیگر ثالثوں کی تجویز پر15اگست کو مذاکرات کے لیے ایک وفد بھیجے گا، جس کے مقام کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔