انقرہ : ترک پارلیمان نے میڈیا سے متعلق جو نیا قانون منظور کیا ہے، اس میں ’غلط معلومات‘ پھیلانے پر جیل کی سزا کی بات کہی گئی ہے۔ اس کے تحت سوشل نیٹ ورکس کو صارفین کی ذاتی تفصیلات بھی مہیا کرنے کی ضرورت ہو گی۔ترکی کی پارلیمنٹ نے جمعرات کے روز صدر رجب طیب اردغان کی طرف سے تجویز کردہ وہ قانون منظور کر لیا، جس کے تحت صحافیوں اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو ’’غلط معلومات‘‘ پھیلانے پر تین برس تک قید کی سزا ہو سکے گی۔یورپی کونسل نے اس پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ اس میں ’’’غلط معلومات‘‘کی مبہم تعریف اور پھر جیل جانے کا خطرہ، کم سے کم جون 2023 میں ہونے والے انتخابات کے پیش نظر تو کافی ’’پریشان کن اثرات کا باعث بننے کے ساتھ ہی سیلف سنسرشپ میں بھی اضافہ کر سکتا ہے‘‘۔قانون کی دفعہ 29 آزادی اظہار کے تعلق سے سب سے زیادہ تشویش کا باعث ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ ’’خوف پیدا کرنے اور امن عامہ کو خراب کرنے‘‘ کے مقصد سے ترکی کی سکیورٹی کے بارے میں آن لائن غلط معلومات پھیلائیں گے، انہیں ایک سے تین برس تک قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔حزب اختلاف کی مرکزی جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان عینین اعلاتی نے اس پر حتمی ووٹنگ سے چند منٹ قبل کہا کہ پریس کی آزادی میں ملک پہلے ہی دوسروں کے مقابلے میں کافی پیچھے ہے اور اس قانون سے تو ’’اس فہرست میں اس کی درجہ بندی کرنا ہی مشکل ہو جائے گا‘‘۔ لیکن صدر اردغان کی حکمران جماعت اے کے پی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات اور جھوٹے الزامات کو روکنے کے لیے قوانین کی ضرورت ہے۔ اس کے مطابق یہ قانون اپوزیشن کو خاموش کرنے کے لیے نہیں بنایا گیا ہے۔ اب اس بل کو حتمی منظوری کے لیے صدر کے پاس بھیجا جائے گا۔
ترکی میں آئندہ برس صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں اور موجودہ انتخابی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر طیب ایردوآن اور ان کی جماعت کی حمایت میں گزشتہ انتخابات کے بعد مسلسل کمی ہوتی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں میڈیا کی آزادی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔