تسلیم و رضا اعتراف بندگی اور تقویٰ پرہیزگاری قربانی کی حقیقی روح

   

قتل و غارت گری سے بچنے اور بچانے پر زور، عیدگاہ گنبدانِ قطب شاہی میں مولانا متین علی شاہ کا خطاب
حیدرآباد 8 جون (پریس نوٹ) تسلیم ورضا اعتراف بندگی اور تقویٰ و پرہیزگاری قربانی کی حقیقی روح ہے تقویٰ ہی وہ عظیم روحانی جذبہ ہے جو بندگی کا حاصل اور تمام اسلامی عبادات کا جز ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا قاری سید متین علی شاہ قادری نے عید گاہ قطب شاہی گنبدان میں عید الاضحی کے کثیر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے کہا کہ قربانی در حقیقت اس عہد کی تجدید ہے کہ ہمارا جینا اور مرنا اللہ کے لیے ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ قربانی کی حقیقی روح کو سمجھیں۔ مولانا متین علی شاہ نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت کا مطالعہ کریں اور اپنی اولاد کو آداب فرزندی سکھائیں وقف ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج جاری رکھیں۔فلسطین اور اہل غزہ کے لیے دعائیں جاری و ساری رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے انسان کو تخلیق کیا اور اس کی جان کو محترم قرار دیا اور فرمایا ایک انسان کو قتل کرنا در اصل سارے انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ جب کہ ایک انسان کی جان بچانا ساری انسانیت کو بچانا ہے۔ مولانا متین علی شاہ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان دنوں معمولی معمولی سی بات پر قتل و غارتگری کا بازار گرم ہے دن دھاڑے قتل اور جوابی قتل کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکی آدھا ایمان ہے اسلامی تعلیمات میں پاکیزگی کی سختی سے تاکید کی گئی۔ قربانی دینے کے مقام پر صاف صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ قربانی کے بعد ناکارہ اشیاء کو سڑکوں پر پھینکنا غیر اخلاقی عمل ہے۔اس موقع پر عالم اسلامی کی سربلندی، مسجد اقصی فلسطینی مسلمان اور عامتہ المسلمین کے لیے بھی دعاء کی گئی۔رکن اسمبلی حلقہ کاروان جناب کوثر محی الدین کی نگرانی میں بلندی، آبرسانی، برقی، پولیس کے وسیع انتظام کیے گئے تھے۔ اس موقع پر حبیب زین العابدین عابد، شکیل علی خان ،عزیز خان پٹھان ، ہارون فرخان، امین پاشاہ اور دیگر نے انتظامات میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لیا۔ ابتداء میں جناب غلام محی الدین خان پاشا بھائی نے خیر مقدم کیا اور عید گاہ کیے تمام کاموں کا تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ دینی و ملی کاموں میں آگے آئیں۔اور آخر میں سب کا شکر یہ ادا کیا۔