تشدد میں غیر ملوث مظاہرین کی گرفتاری پر دہلی اقلیتی کمیشن کا موثر احتجاج

   

نئی دہلی: 20 دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) دہلی میں کل مظاہرے کے دوران مبینہ طور پر سینکڑوں گرفتاریوں کی خبر ملتے ہی دہلی اقلیتی کمیشن نے فوری تعمیل کے لئے دہلی پولیس کمشنر سے کہا تھا کہ تشدد میں غیر ملوث پائے جانیوالے تمام گرفتار شدہ مظاہرین کو فوری طور سے چھوڑ دیا جائے ۔ریلیز کے مطابق اس اقدام کے بعد چند گھنٹوں کے اندرہی تمام مظاہرین کو بغیر کسی اور کارروائی کے چھوڑ دیا گیا۔یہاں جاری ریلیز کے مطابق کمیشن نے یہ قدم یہ اطلاع ملنے پر جاری کیا کہ سماج کی اہم شخصیات مثلا ہرش مندر، پرشانت بھوشن، ڈاکٹر جان دیال اور سندیپ دکشت جیسے لوگوں کو گرفتار کرکے دوسرے پر امن مظاہرین کے ساتھ دور دراز علاقوں میں لے جایا گیا ہے ۔ کمیشن نے دہلی پولیس کمشنر کو کہا کہ دہلی پولیس یا انتظامیہ کو یہ اختیار قطعا نہیں ہے کہ لوگوں کو پر امن احتجاج سے روکے جبکہ وہ حکومت کے ایک ایسے اقدام کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جس کو ملک کے کروڑوں لوگ غیر قانونی اور غیر آئینی سمجھتے ہیں۔ دہلی اقلیتی کمیشن نے اسی کے ساتھ دہلی کے لفٹننٹ گورنر کو بھی بذریعہ خط 15دسمبر سے دہلی میں پولیس کی طرف سے مظاہرین پر مبینہ حملے سے آگاہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ لوگوں کے پرامن مظاہرے کرنے کے حق پر حملہ ہے جبکہ ایسے مظاہرے کرنا عوام کا جمہوری اور شہری حق ہے جس کو آئین کی سند حاصل ہے ۔ پولیس اور سیکیوریٹی فورسز کا کام اس وقت شروع ہوتا ہے جب کوئی مظاہرہ پر تشدد ہوجاتا ہے ۔ کمیشن نے اپنے خط میں دہلی پولیس کے آئینی سربراہ ہونے کے ناطے لفٹننٹ گورنر سے درخواست کی کہ وہ پولیس کمشنر اور دوسرے افسران کو حکم جاری کریں کہ لوگوں کے پرامن مظاہرے اور احتجاج میں اس وقت تک مداخلت نہ کی جائے جب کوئی مظاہرہ پر تشددنہ ہوجائے ۔