بیدر میں افتتاحی تقریب محراب فیض کا انعقاد ۔ خانقاہی نظام خدمت خلق کا عظیم مرکز ، علماء و مشائخین کا خطاب
بیدر۔20 مئی ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) درگاہ و خانقاہ حضرت خواجہ ابوالفیضؒ بیدر میں افتتاحی تقریبِ ’’محرابِ فیض‘‘ نہایت روحانی و علمی ماحول میں منعقد ہوئی،جس میں حضرت خواجہ ابوالفیضؒ کے99اسمائے مبارکہ پر مشتمل ’’محرابِ فیض‘‘ کا افتتاح عمل میں آیا۔ اس باوقار تقریب میں علماء ،مشائخ، سجادگان، عقیدتمندوں اور وابستگانِ خانقاہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ افتتاح حضرت سید شاہ اسداللہ حسینی کے دستِ مبارک سے انجام پایا۔تقریب کے آغاز میں تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبولؐ بھی حافظ اسماعیل نے پیش کی۔اس موقع پر سید شاہ من اللہ علوی نے تفصیلی اور روح پرور خطاب کرتے ہوئے ’’ملفوظات‘‘ کی علمی، روحانی اور تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ تصوف کی تاریخ میں ملفوظات کو ہمیشہ غیر معمولی مقام حاصل رہا ہے کیونکہ یہ صرف اقوال کا ذخیرہ نہیں بلکہ اولیائے کرام کے قلبی احوال،روحانی فیوض اور تربیتی اسلوب کا آئینہ دار ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حضرت خواجہ ابوالفیضؒ کے نادر ملفوظات ’’شوامل الجمل در شمائل المکمل‘‘ کو آپ کے فرزندِ صالح حضرت سید شاہ کلیم اللہ حسینیؒ نے قلم بند فرمایا،جس سے ان ملفوظات کی روحانی و علمی عظمت مزید بڑھ جاتی ہے۔انہوں نے اپنی تحقیقی جدوجہد کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً چھ سو برس تک یہ روحانی سرمایہ نظروں سے اوجھل رہا،مگر قدیم مخطوطات اور عالمی ڈیجیٹل آرکائیوز کی تلاش کے دوران اس نادر مخطوطے کا سراغ ملا۔سید شاہ من اللہ علوی نے کہا کہ اس اہم دریافت کی اطلاع سب سے پہلے حضرت سید متین الدین حسینی کو دی گئی،جنہوں نے مخطوطے کی بین الاقوامی علمی توثیق کی ضرورت پر زور دیا۔بعد ازاں مخطوطے پر ثبت ’’McGill University‘‘ٹورنٹو کینیڈا شہر کی مہر نے خصوصی توجہ حاصل کی اور وہاں کے ماہرین،لائبریرین اور اسلامک اسٹڈیز کے ذمہ داران سے علمی مکالمہ کے بعد یہ ثابت ہوا کہ یہ ایک مستند اور قیمتی روحانی و تاریخی سرمایہ ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ سجادہ نشین حضرت سید شاہ اسداللہ حسینی کے مبارک دور میں اس مفقود روحانی خزانے کا منظرِ عام پر آنا ایک عظیم سعادت ہے۔انہوں نے دکن خصوصاً بیدر کی روحانی و علمی تاریخ کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ حضرت خواجہ ابوالفیضؒ نے بیدر میں خانقاہی نظام کو اصلاحِ معاشرہ، تزکیہ نفس،ذکرِ الٰہی اور خدمتِ خلق کا عظیم مرکز بنایا،جس کے اثرات صدیوں تک محسوس کیے جاتے رہے۔انہوں نے ’’99اسمائے مبارکہ‘‘ کی روحانی معنویت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی روایت میں عدد 99 جامعیتِ صفات اور کمالِ اوصاف کی علامت سمجھا جاتا ہے اور حضرت خواجہ ابوالفیضؒ کے یہ اسمائے مبارکہ دراصل آپ کی روحانی شخصیت،اخلاقی اوصاف اور باطنی تجلیات کی مختلف جہات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر سید تنویر ہاشمی صدر جماعت اہلِ سنت کرناٹک نے خصوصی دعا فرمائی جبکہ سید شاہ معین الدین حسینی جانشینِ درگاہ حضرت خواجہ ابوالفیضؒ نے اظہارِ تشکر ادا کیا۔اس روحانی و تاریخی تقریب نے حاضرین کے قلوب کو منور کردیا اور صدیوں پر محیط روحانی روایت کی تجدید کا احساس تازہ کر دیا۔