تعلیمی اداروں کے قریب منشیات کی فروخت

   

مرکزی حکومت کے احکامات پر عدم عمل آوری ، مجرمین کی حوصلہ افزائی
حیدرآباد۔27فروری(سیاست نیوز) تعلیمی ادارو ںکے 100 گز کے دائرہ میں حکومت کی جانب سے تمباکو کی اشیاء کی فروخت پر پابندی عائد نہ کئے جانے کے نتیجہ میں اب حالات جو صورت اختیار کررہے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ شہر کے کسی بھی مقام پر منشیات کا کاروبار کرنے والے گانجہ سے لیس چاکلیٹ اسکولی طلبہ کو فروخت کرنے لگے ہیں اور انہیں اپنا آسان شکار بنارہے ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں اسکولوں کے 100 میٹر کے دائرہ میں تمباکو کی اشیاء کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کے اقدامات کرتے ہوئے تمام ریاستوں کو روانہ کی گئی ہدایات اور رہنمایانہ خطوط میں اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ تعلیمی اداروں کے 100 میٹر کے دائرہ میں تمباکو کی کوئی بھی اشیاء فروخت نہ کی جائیں۔ مرکز کی جانب سے عائد کردہ اس پابندی پر سابق حکومت تلنگانہ کو بارہا متوجہ کروائے جانے کے باوجود تلنگانہ میں کے چندر شیکھر راؤ حکومت نے اس سلسلہ میں کوئی کاروائی نہیں کی اورنہ ہی تمباکو کی اشیاء کی فروخت پر روک لگانے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجہ میں منشیات کے کاروبار میں ملوث مجرمین کی حوصلہ افزائی ہونے لگی اور وہ اسکولوں کے علاوہ کالجس کے قریب تمباکو کی اشیاء کے نام پر منشیات کو بھی فروغ دینا شروع کرچکے ہیں۔ شہر کے نواحی علاقوں میں موجود سرکردہ کالجس کے قریب گانجہ کے سگریٹ وغیرہ عام بات ہوتی جا رہی تھی لیکن گذشتہ دنوں شہر حیدرآباد میں گانجہ کے چاکلیٹ کی فروخت کا ریاکٹ بے نقاب ہونے کے بعد کہا جا رہاہے کہ شہر کے اسکولوں اور کالجس کے پاس بھی یہ چاکلیٹ فروخت کئے جا رہے ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے تیار کی گئی پالیسی کے مطابق تعلیمی اداروں کے 100 میٹر کے دائرہ میںتمباکو کی اشیاء فروخت نہیں کی جانی چاہئے لیکن سابقہ حکومت کی جانب سے اس پالیسی پر عمل آوری کو یقینی بنانے کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ۔ قانون حق آگہی کے تحت داخل کی گئی ایک درخواست کے جواب میں ریاستی حکومت نے واضح طور پر یہ جواب دیا ہے کہ مرکز کے ان رہنمایانہ خطوط کے سلسلہ میں ریاستی حکومت نے کوئی پیشرفت نہیں کی اور نہ ہی عمل آوری کے سلسلہ میں اقدامات کئے گئے ۔ سابق چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو اس سلسلہ میں متعدد مرتبہ متوجہ کرواتے ہوئے تعلیمی اداروں کے قریب تمباکو کی اشیاء کی فروخت کے نقصانات کے متعلق واقف کروانے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے اس مسئلہ پر مکمل خاموشی اختیارکرتے ہوئے کسی بھی طرح کی کوئی کاروائی سے گریز کیا۔3