تعلیمی فیس میں ہر سال اضافہ سے والدین اور سرپرستوں پر اضافی بوجھ

   

ہر سال 12 تا 14 فیصد اضافہ، سرکاری سطح پر اسکولوں کی زبوں حالی
حیدرآباد ۔3 ۔ اگست (سیاست نیوز) ملک میں سرکاری سطح پر عوام کو مفت تعلیم کی فراہمی کا دستور میں وعدہ کیا گیا لیکن حکومتیں اپنی ذمہ داری کی تکمیل میں ناکام ثابت ہوئیں جس کے نتیجہ میں عوام خانگی شعبہ کے تعلیمی اداروں کی جانب متوجہ ہونے پر مجبور ہیں۔ شہروں حتیٰ کہ دیہی علاقوں میں بھی خانگی تعلیمی اداروں نے نت نئے انداز میں عوام کو راغب کرنے کی اسکیمات کا آغاز کیا ہے۔ خانگی شعبہ پر عوام کے بڑھتے انحصار کا اثر تعلیمی فیس میں اضافہ کی صورت میں منظر عام پر آیا ہے۔ بہتر انفراسٹرکچر سہولتوں کے نام پر خانگی تعلیمی ادارے ہر سال فیس میں اضافہ کرتے ہوئے والدین اور سرپرستوں پر اضافی بوجھ عائد کر رہے ہیں۔ گزشتہ ایک دہے کے دوران خانگی تعلیمی اداروں کی فیس میں اضافہ کا رجحان ہے ۔ کووڈ۔19 کے دو برسوں میں تعلیمی فیس میں کوئی خاص اضافہ نہیں کیا گیا کیونکہ عوام کووڈ کی صورتحال سے پریشان تھے۔ 2016 تا 2020 تعلیمی فیس میں 10 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا جبکہ 2026 تک یہ اضافہ 12 تا 14 فیصد ہوچکا ہے۔ سب سے زیادہ 2014 میں سالانہ فیس میں 14 فیصد درج کی گئی۔ تعلیمی اداروں کا دعویٰ ہے کہ ہر سال اداروں کے مجموعی اخراجات ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور دیگر سہولتوں میں اضافہ کے سبب وہ سالانہ فیس بڑھانے پر مجبور ہیں۔ خانگی اداروں کی فیس کو باقاعدہ بنانے کے لئے عدالتوں کی جانب سے بھی کئی فیصلے سنائے گئے۔ مرکزی اور ریاستی سطح پر فیس کی نگرانی اور تعین کے لئے ریگولیٹری کمیشن اور کمیٹی تشکیل دی گئی ، باوجود اس کے عوام پر بوجھ میں کوئی کمی نہیں آئی۔ سرکاری سطح پر بہتر سہولتوں کے معاملہ میں دہلی ملک میں سرفہرست ہے اور عالمی سطح پر دہلی کے تعلیمی اداروں کی کارکردگی کی ستائش کی جارہی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے بھی تعلیمی اداروں میں بہتر انفراسٹرکچر سہولتوں کیلئے خصوصی فنڈس مختص کئے ہیں۔ حکومت نے سرکاری اسکولوں میں ڈراپ آوٹس کو روکنے کیلئے طلبہ کیلئے مفت ناشتہ اور لنچ کی اسکیم متعارف کی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے ماڈل اسکولوں کے قیام کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کارپوریٹ اسکولوں کی طرم پر سرکاری اسکولوں میں بھی تعلیم کا انتظام رہے۔1/k