تعلیم کا جدید تصور مولانا آزاد کی بنیادی فکر :پروفیسر نزہت

   

لکھنؤ: تعلیم کا جدید تصور مولانا آزاد کی بنیادی فکر کا حصہ ہے ۔ مولانا آزاد عالمی سطح کے ان ممتاز رہنماؤں میں تھے جو بچپن سے ہی غیر معمولی صلاحیت کے حامل تھے ،عنفوان شباب سے ہی برطانوی استعمار مخالفت میں سرگرم عمل ہوگئے اور آزادی کے بعد جب ملک کے تعلیمی نظام کی بنیاد رکھنے کاموقع ملا تو انھوں نے سب کیلئے یکساں مواقع فراہم کیے ۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر رام منوہر لوہیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس(لکھنؤ)کی ڈین پروفیسر نزہت حسین نے قومی یوم تعلیم /یوم آزاد کے موقع پر توسیعی خطبہ کے دوران کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ مولانا آزاد نے آج سے سات دہائی قبل ایک ایسے تعلیمی نظام کا تصو ر پیش کیا تھا جو آج کی نئی تعلیمی پالیسی کے کریڈٹ سسٹم کی عکاس ہے ۔انھوں نے کہا کہ مولانا آزاد کثیرالجہات صلاحیتوں کے مالک تھے ۔جدوجہد آزادی کے ایک فکری اور عملی مجاہد تھے تو آزادی کے بعد ملکی نظام تعلیم کی ایسی جامع بنیادرکھی کہ جس میں وسیع تر ہندستان کا تصور تھا۔انھوں نے جہاں پرائمری تعلیم پر خاص توجہ دی نیز انھوں نے مقامی زبان ؍مادری زبان میں ابتدائی تعلیم کا بنیادی تصور پیش کیا۔