ملک کا ہر شہری ایک لاکھ 20 ہزار روپئے کا مقروض ، راشن شاپس پر وزیراعظم کی تصویر کو لے کر ہنگامہ آرائی مضحکہ خیز
حیدرآباد ۔ 2 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : ریاستی وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ نے ایوشمان بھارت اسکیم میں تلنگانہ کی عدم شمولیت کا الزام عائد کرتے ہوئے مرکزی وزیر فینانس کو تلنگانہ کے عوام سے معذرت خواہی کرتے ہوئے مرکزی وزارت سے مستعفی ہوجانے کا نرملا سیتارامن سے مطالبہ کیا ۔ راشن شاپس پر وزیراعظم کی تصویر نہ لگانے پر مرکزی وزیر کی ہنگامہ آرائی کی سخت مذمت کی اور کہا کہ مرکز کو مختلف ٹیکسوں کی شکل میں 3 لاکھ 65 ہزار 797 کروڑ روپئے تلنگانہ کی جانب سے ادا کئے جارہے ہیں ۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں چیف منسٹر کے سی آر کی تصاویر لگانے کا مرکز سے مطالبہ کیا ۔ مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارامن نے آج ضلع کاماریڈی کے بھکنور میں واقع راشن شاپ کا دورہ کرتے ہوئے راشن شاپ پر وزیراعظم کی تصویر نہ لگانے پر ہنگامہ آرائی کرنے کی مذمت کی ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ مرکز ریاست تلنگانہ کو صرف 55 فیصد چاول سربراہ کررہا ہے اور اس پر بھی فی کیلو چاول پر تین روپئے وصول کررہی ہے ۔ جب کہ تلنگانہ حکومت اپنے سرکاری خزانہ سے 3610 کروڑ روپئے خرچ کرتے ہوئے ہر فرد کو 10 کیلو چاول مفت تقسیم کررہی ہے ۔ اس کے باوجود بھی راشن شاپس پر چیف منسٹر کے سی آر کی تصویر نہ لگانے کا دعویٰ کیا ۔ ریاستی وزیر فینانس نے کہا کہ ملک کو 5 یا 6 ریاستیں ہی چلا رہی ہیں ۔ مرکز نے تلنگانہ کو ایک لاکھ 96 ہزار 448 کروڑ روپئے ہی ادا کیا ہے جب کہ ریاست تلنگانہ نے مرکز کو مختلف ٹیکسوں کی شکل میں 3 لاکھ 65 ہزار 797 کروڑ روپئے ادا کررہی ہے ۔ مرکز تلنگانہ کو جتنا فنڈز دے رہی ہے اس سے ایک لاکھ 70 ہزار کروڑ روپئے زیادہ رقم مرکز کو ادا کی جارہی ہے ۔ یہی رقم مرکز مختلف ریاستوں کو تقسیم کررہی ہے ۔ کیا ان ریاستوں میں مرکزی حکومت چیف منسٹر کے سی آر کی تصویر لگائے گی ۔ مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارامن سے استفسار کیا ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ ریاست ایوشمان بھارت اسکیم کا حصہ ہے ۔ افسوس ہے کہ نرملا سیتارامن اس سے لاعلم ہے ۔ انہوں نے مرکزی وزیر کو چیلنج کیا کہ اگر وہ ثابت کردیں تلنگانہ ریاست اس اسکیم کا حصہ نہیں ہے تو وہ ریاستی وزارت سے مستعفی ہوجائے اگر میں ثابت کردیا تو کیا نرملا سیتارامن مرکزی وزارت سے مستعفی ہوجائیں گی استفسار کیا ۔ 18 مئی 2021 کو تلنگانہ ایوشمان بھارت اسکیم کا حصہ بن گیا ۔ مرکزی وزیر صحت نے پارلیمنٹ میں اس کا اعلان کیا ہے اور اس اسکیم کے تحت مرکزی حکومت نے تلنگانہ کو 150 کروڑ روپئے بھی مختص کئے ہیں ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ حکومت اس اسکیم پر 1010 کروڑ روپئے خرچ کررہی ہے جب کہ مرکز صرف 150 کروڑ روپئے ادا کررہی ہے ۔ ایوشمان بھارت اسکیم سے صرف 26 لاکھ خاندان کو فائدہ ہورہا ہے ۔ جب کہ آروگیہ شری اسکیم سے 90 لاکھ خاندان کو فائدہ ہورہا ہے ۔ اس اسکیم کے بارے میں جھوٹی تشہیر کرنے والی نرملا سیتارامن سے معذرت خواہی کرنے کا ہریش راؤ نے مطالبہ کیا ہے ۔ ریاستی وزیر فینانس نے مرکزی وزیر فینانس کی جانب سے تلنگانہ میں جنم لینے والے ہر بچہ پر 1.25 لاکھ روپئے کا قرض ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ آر بی آئی نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں ہر شہری پر 89 ہزار 188 روپئے کا قرض ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت پر ایک کروڑ 52 لاکھ 17 ہزار 910 کروڑ روپئے قرض کا بوجھ ہے ۔ اس طرح ملک کے ہر شہری پر ایک لاکھ 20 ہزار کروڑ روپئے کا قرض ہے ۔۔ ن