مرکزی قائدین تلنگانہ میں مذہبی منافرت پھیلانے کوشاں، سرسلہ میں قومی یکجہتی تقریب، ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کا خطاب
گمبھی راؤ پیٹ۔/16 ستمبر، (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)تلنگانہ ترقی کے معاملہ میں خود مکتفی ہے ۔ مرکز نے تلنگانہ کی ترقی کیلئے پھوٹی کوڑی بھی نہیں دیا۔ مرکز کے بی جے پی قائدین وقتاً فوقتاً تلنگانہ کا دورہ کرتے ہوئے مذہبی منافرت پھیلانے والے بیانات دے کر چلے جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق و انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے کیا۔ وہ آج اپنے حلقہ اسمبلی سرسلہ میں سرکاری طور پر منعقدہ تلنگانہ قومی یکجہتی پروگرام کو مخاطب کررہے تھے۔سرکاری طور پر منائے جانے والے پروگرام میں عوام بالخصوص پارٹی قائدین و کارکنان ، عوامی منتخبہ نمائندوں نے ہاتھوں میں قومی پرچم تھامے ریالی کی شکل میں حصہ لیا۔ وزیر کے ٹی راما راؤ نے طئے شدہ پروگرام سے ایک گھنٹہ تاخیر سے سرسلہ پہنچے جہاں انہوں نے کالج گراؤنڈ پر ایک بڑے احتجاجی جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل اور ٹی آر ایس اقتدار کے آٹھ سال کے درمیان تلنگانہ میں روبہ عمل لائی گئی فلاحی اسکیمات کا تفصیلی طور پر ذکر کیا اور کہا کہ آج تلنگانہ میں روبہ عمل فلاحی اسکیمات سارے ملک کیلئے مشعل راہ ہیں جس کی سابق میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کسانوں کیلئے 24 گھنٹے مفت برقی سربراہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ملک کی پہلی ریاست ہے جہاں کسانوں کو 24 گھنٹے مفت برقی سربراہی عمل میں لائی جارہی ہے۔ کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ رعیتو بیمہ، رعیتو بندھو ریاست کی مثالی اسکیمات ہیں جن سے کسانوں کو خاطر خواہ فائدہ مل رہا ہے۔ کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے شادی مبارک، کلیان لکشمی اسکیم کے ذریعہ ایک لاکھ ایک سو سولہ روپئے غریب و مستحق خاندانوں کی لڑکیوں کی شادی کیلئے دے رہے ہیں جس سے لڑکیوں کے والدین کو کافی مدد فراہم ہورہی ہے۔ کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ سرکاری دواخانہ میں زچگی کروانے والی خواتین کو کے سی آر کٹ کے نام سے 12 ہزار روپئے دیئے جارہے ہیں۔ تلنگانہ میں بے گھر افراد کو ڈبل بیڈ روم مکانات فراہم کئے گئے۔ کے ٹی آر نے سرسلہ علاقہ کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ سابق میں سرسلہ اور ویملواڑہ کے درمیان صرف ایک ڈگری کالج تھا لیکن آج کے سی آر کے اقتدار میں اور میری کامیاب نمائندگی پر سرسلہ کو اگریکلچر بالسٹک نرسنگ کالج، جے این ٹی یو انجینئرنگ کالج اور حالیہ دنوں میڈیکل کالج کی بھی منظوری عمل میں لائی گئی۔ کے ٹی آر نے مزید کہا کہ بنکروں کو کئی مراعات دی گئیں جبکہ علاقہ کے کپڑا بنکر معاشی پریشانیوں کے باعث کافی فکر مند تھے۔ انہیں سبسیڈی کے تحت کئی اسکیمات فراہم کی گئیں۔ قبل ازیں علاقہ کے کپڑا بنکر ماہانہ بڑی مشکل سے 6 تا 8 ہزار روپئے کماتا تھا اب علاقہ کا بنکر حکومت کی مراعات حاصل کرنے کے بعد ماہانہ 18 تا 20 ہزار روپئے کماتا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ سرسلہ ضلع کی جملہ آبادی ایک لاکھ پچاس ہزار ہے جبکہ علاقہ میں اب تک ایک لاکھ 24 ہزار افراد کو آسرا پنشن منظور کئے گئے جس کا تناسب80 فیصد تا 90 فیصد ہے۔ کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ تلنگانہ بھر میں 62 لاکھ کسانوں کو 52 ہزار کروڑ روپئے رعیتو بندھو اسکیم کے تحت رقم منظور کی گئی۔اس پروگرام کو ضلع پریشد چیرپرسن ارونا راگھو اریڈی، تلنگاہ پاور لوم چیرمین جی پروین، میونسپل چیرپرسن جی کلاوتی چکرا پانی، ضلع گرندھالیہ چیرمین اے شنکریا کے علاوہ ضلع کلکٹر انوراگ جینتی نے بھی مخاطب کرتے ہوئے یوم تاسیس تلنگانہ پر روشنی ڈالی اور کہا کہ کے مسٹر کے ٹی راما راؤ کی خصوصی دلچسپی کی وجہ انجام دیئے گئے ترقیاتی کاموں کا ذکر کیا۔ اس موقع پر ضلع ایس پی بی کے راہول ہیگڈے ، ڈپٹی کلکٹرس ستیہ پرساد، کے نائیک اور دیگر موجود تھے۔