تلنگانہ حکومت صرف تنخواہیں اور پنشن ادا کرنے کے موقف میں

   

تمام محکمہ جات کے بلس ملتوی رکھنے کا فیصلہ ، ملازمین کے پی آر سی پر موقف غیر واضح
حیدرآباد: تلنگانہ میں نائیٹ کرفیو اور پھر لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں سرکاری خزانہ کی آمدنی پر منفی اثر پڑا ہے۔ آمدنی میں تخفیف کو دیکھتے ہوئے حکومت نے جاریہ ماہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن کے علاوہ محکمہ صحت کے ہنگامی بلس کو منظوری دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ حکومت نے دیگر محکمہ جات کے بلس کو آئندہ کیلئے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ آمدنی میں اضافہ کے بعد کوئی فیصلہ کیا جاسکے۔ محکمہ صحت کے عہدیداروںکا کہنا ہے کہ انہیں حکومت کی جانب سے زبانی ہدایت موصول ہوئی ہے کہ تنخواہوں اور پنشن کے علاوہ کسی بھی بلس کو منظوری نہ دیں۔ کورونا کی صور تحال کو دیکھتے ہوئے محکمہ صحت کی ہنگامی ضرورتوںکی تکمیل کیلئے رقم جاری کی جائے گی ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ نائیٹ کرفیو کے نفاذ کے بعد سے ریاست کی آمدنی میں کمی کا آغاز ہوا اور شراب کی فروخت سے کسی قدر آمدنی وصول ہورہی تھی کہ اچانک حکومت سے لاک ڈاؤن نافذ ہوا۔ لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں تجارتی سرگرمیاں اور شراب کی فروخت 4 گھنٹوں کیلئے محدود ہوچکی ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ٹیکس کلکشن میں کمی آئی ہے ۔ حکومت نے اراضیات کے رجسٹریشن کو روک دیا ہے ۔ عہدیداروں کے مطابق کورونا سے نمٹنے کیلئے درکار فنڈ کے علاوہ کسی اور بلس کو منظوری نہیں دی جائے گی ۔ حکومت وظیفہ پر سبکدوش ہونے والے ملازمین کی گریجویٹی کی رقم جاریہ ماہ کے بجائے آئندہ کرے گی ۔ حکومت نے سرکاری ملازمین اور ٹیچرس کیلئے نظر ثانی شدہ پی آر سی پر عمل آوری کا ابھی تک فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ حکومت نے ملازمین کی وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں تین سال کا اضافہ کرتے ہوئے احکامات جاری کئے لیکن اضافی تنخواہوں پر عمل آوری کو کمزور مالی موقف کے باعث روک دیا گیا ہے ۔ سرکاری محکمہ جات سے کہا گیا ہے کہ وہ محکمہ فینانس کو صرف تنخواہوں سے متعلق بلس روانہ کریں جبکہ دیگر بلس کو التواء میں رکھا جائے ۔ عہدیداروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں حکومت کیلئے جی پی ایف ، میڈیکل ری ایمبرسمنٹ اور لیو ان کیاشمنٹ کی ادائیگی بھی مشکل ہے۔ محکمہ جات اریگیشن آر اینڈ بی جی ایچ ایم سی ، میونسپلٹی اور پنچایت راج سے متعلق تمام بلز محکمہ فینانس میں زیر التواء ہے۔ گزشتہ ماہ محکمہ فینانس کی جانب سے بعض محکمہ جات کے بلز کیلئے ٹوکن جاریہ کئے گئے تھے لیکن ادائیگی کو روک دیا گیا ہے۔ مختلف محکمہ جات میں 19,000 کروڑ کے بلس زیر التواء ہیں جن میں اریگیشن ڈپارٹمنٹ 14000 کروڑ ، آر اینڈ بی 1200 کروڑ ، جی ایچ ایم سی 1000 کروڑ ، پنچایت راج 900 کروڑ اور مشن بھگیرتا کے 800 کروڑ کے بلس شامل ہیں۔ 12751 گرام پنچایتوں کیلئے مارچ کے دوسرے ہفتہ میں چیکس جاری کئے گئے تھے جن کی مالیت 1300 کروڑ ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ پلے پرگتی اور بعض آبپاشی پراجکٹس کیلئے فنڈس کی اجرائی عمل میں آئی تھی لیکن آئندہ کی ادائیگی مشکل دکھائی دے رہی ہے۔