تلنگانہ حکومت مسلمانوں کیلئے اسلامک کلچرل سنٹر کی تعمیر کے حق میں نہیں!

   

کوکا پیٹ میں سنٹر کیلئے مختص 10ایکڑ اراضی سے دستبردار ہونے محکمہ اقلیتی بہبود سے درخواست

: محمد مبشرالدین خرم :
حیدرآباد۔14؍ مئی ۔ حکومت تلنگانہ مسلمانوں کے لئے اسلامک کلچرل سنٹر کی تعمیر کے حق میں نہیں ہے!ریاستی حکومت تلنگانہ نے محکمہ اقلیتی بہبود سے کوکاپیٹ میں اسلامک کلچرل سنٹر کے لئے مختص کردہ 10ایکڑ اراضی سے دستبرداری اختیار کرنے کی خواہش کی ہے ! محکمہ اقلیتی بہبود نے بھی ریاستی حکومت کو کوکا پیٹ میں مختص کی گئی انتہائی قیمتی 10ایکڑ اراضی واپس کرنے کے اقدامات بھی شروع کردیئے ہیں۔ تلنگانہ میں بی آر ایس حکومت نے شہر حیدرآباد میںاسلامک کلچرل سنٹر کے قیام کی منظوری کا اعلان کرتے ہوئے 21جنوری 2017 کو جی او آر ٹی نمبر 10جاری کرتے ہوئے درگاہ حضرت حسین شاہ ولی ؒ کے تحت موجود موقوفہ اراضی جو کہ سروے نمبرات190,191,192 اور 194 کے تحت منی کنڈہ میں موجود 6 ایکڑ 14 گنٹے اراضی اور 40کروڑ روپئے تعمیرات کے لئے مختص کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اسلامک کلچرل سنٹر کے لئے موقوفہ اراضی مختص کئے جانے پر اعتراض کے بعد پیشرو بی آر ایس حکومت نے اس فیصلہ سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے نئے احکامات جاری کئے تھے اور 7 اکٹوبر 2019 کو جی او آر ٹی نمبر 148 جاری کرتے ہوئے نہ صرف 10ایکڑ اراضی کی تخصیص عمل میں لائی بلکہ اسلامک کلچرل سنٹر کی تعمیر کے لئے 40کروڑ روپئے کی تخصیص اور تعمیری کمیٹی کو بھی اسی جی او میں منظوری دی گئی تھی ۔ حکومت تلنگانہ سال 2019 میں سیکریٹری برائے حکومت تلنگانہ اجئے مشرا کی دستخط کے ساتھ جاری کئے گئے جی او میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ ریاستی حکومت نے سروے نمبرات 239 اور 240 میں گنڈی پیٹ موضع ‘ رنگاریڈی ضلع میں تلنگانہ اسلامک کلچرل اینڈ کنونشن سنٹر کے لئے 10ایکڑ اراضی مختص کی گئی ہے اور اراضی پر تعمیرات کے لئے منیجنگ کمیٹی کا صدرنشین ریاستی وزیر اقلیتی بہبود کو نامزد کیاگیا تھا جبکہ سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود ‘ منیجنگ ڈائریکٹر تلنگانہ پولیس ہاؤزنگ کارپوریشن لمیٹڈ‘ سینیئر آفیسر محکمہ فینانس ‘ ضلع کلکٹر رنگاریڈی چیف اکزیکیٹیوآفیسر تلنگانہ وقف بورڈ کو منیجنگ کمیٹی اراکین میں شامل کرتے ہوئے ڈائریکٹر محکمہ اقلیتی بہبود کو کنوینر نامزد کیا گیا تھا ۔ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ریاست میں برسراقتدار حکومت نے تلنگانہ اسلامک ‘ کلچرل اینڈ کنونشن سنٹر کے لئے مختص کی گئی اس اراضی کو واپس لینے کے اقدامات کا آغاز کردیا ہے کیونکہ کوکا پیٹ کے علاقہ میں تیزی سے جاری ترقیاتی کاموں اور ہمہ منزلہ عمارتوں کے علاوہ اراضیات کی قیمتوں میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ کے پیش نظر حکومت نے ’تلنگانہ اسلامک ‘ کلچرل اینڈ کنونشن سنٹر کو کسی اور مقام پر منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے لیکن تاحال کسی اراضی کی نشاندہی نہیں کی گئی جبکہ محکمہ اقلیتی بہبود کے ذرائع کے مطابق ’اسلامک کلچر سنٹر ‘ کے مقام کو تبدیل کرنے کے سلسلہ میں سرگرمیاں تیز ہوچکی ہیں ۔تلنگانہ میں کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد 11 جولائی 2024 کو محکمہ اقلیتی بہبود کے متعلقہ ادارہ جات کے ذمہ داروں نے عہدیداروں کے ہمراہ اس انتہائی قیمتی اراضی کا دورہ کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ جلد ہی ریاستی حکومت اس اراضی پر تعمیراتی کاموں کا آغاز کرے گی اس دورہ کے دوران کانگریس کے اقلیتی قائدین بھی موجود تھے لیکن اب اس اراضی پر تعمیرات کے بجائے دوسری اراضی کی نشاندہی کی بات کی جا رہی ہے اور یہ باور کروایا جارہا ہے کہ کوکا پیٹ میں مسلم آبادی نہیں ہے اسی لئے اس علاقہ میں ’تلنگانہ اسلامک ‘ کلچرل اینڈ کنونشن سنٹر‘ کی ضرورت نہیں ہے اسی لئے اس مرکز کو مسلم آبادی سے قریب تعمیر کرنے کے نام پر اس انتہائی قیمتی اراضی کو جو کہ مسلمانوں کے حوالہ کی گئی تھی واپس حاصل کرنے کی سازش کی جار ہی ہے۔محکمہ اقلیتی بہبود بالخصوص ریاستی وزیر اقلیتی بہبود کو اس سلسلہ میں وضاحت کرنی چاہئے کہ پیشرو حکومت میں مختص کی گئی اس انتہائی قیمتی اراضی پر ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود تعمیراتی کاموں کا آغاز کب کرے گا یا اس اراضی کو بھی قانونی تنازعات کا شکار بناتے ہوئے ’اسلامک کلچرل سنٹر ‘ کے مقام کی تبدیلی کو یقینی بنانے کی سازش پر عمل آوری کے ذریعہ اس قیمتی اراضی کو واپس لے لیا جائے گا!۔