تلنگانہ حکومت کی ٹیکس آمدنی میں اضافہ

   

سوائے رجسٹریشن کے دیگر شعبوں کی آمدنی بڑھ گئی ، مرکز سے ایک روپیہ گرانٹ نہیں ملا
حیدرآباد ۔ 19 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : ریاستی حکومت کی ٹیکس آمدنی میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ موجودہ مالیاتی سال 2024-25 کے پہلے سہ ماہی اپریل سے جون تک ٹیکس کی شکل میں 34,609.50 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ جو گذشتہ مالیاتی سال 2023-24 کے سہ ماہی مقابلے کے بہ نسبت 2,884.50 کروڑ روپئے کی زیادہ آمدنی ہوئی ہے ۔ درحقیقت گذشتہ سال اسی سہ ماہی میں مرکزی گرانٹ کی شکل میں 1811 کروڑ روپئے وصول ہوئے ۔ تاہم اس سال مرکز سے گرانٹ کی شکل میں ایک روپیہ بھی وصول نہیں ہوا ہے ۔ کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل ( کاگ ) رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے ۔ مرکزی گرانٹس کی عدم وصولی کے باوجود ریاستی حکومت نے کم قرض حاصل کیا ہے ۔ گذشتہ سال انہیں سہ ماہی کے دوران 15,876 کروڑ روپئے قرض حاصل کیا گیا جب کہ جاریہ سال 13,171 کروڑ روپئے قرض حاصل کیا گیا ۔ مرکز سے گرانٹس کی عدم وصولی اور حصول قرض میں کمی کی وجہ سے پہلے سہ ماہی میں ریاست کی آمدنی 50,910 کروڑ روپئے سے گھٹ کر 48,790 کروڑ روپئے ہوگئی ۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اپریل اور مئی میں لوک سبھا انتخابات کی وجہ سے مرکز سے فنڈز وصول نہیں ہوئے ۔ انتخابی ضابطہ اخلاق کی وجہ سے اراضیات رجسٹریشن سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی کمی آئی ہے ۔ جی ایس ٹی ، شراب اور پٹرول کی فروخت پر ہونے والی آمدنی میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے ۔ انتخابات کی وجہ سے شراب کی فروخت میں اصافہ ہوا ۔ اس پر سیل ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی وصول کی گئی ۔ ریاستی حکومت کے اخراجات میں سود کی ادائیگی ، ملازمین کے تنخواہوں اور پنشن میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے ۔ اس سہ ماہی میں پرانے قرضوں پر سود کا بوجھ پچھلے سال 5247 کروڑ سے بڑھ کر 5933 کروڑ روپئے ہوگیا ۔ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی 9796 کروڑ سے بڑھ کر 11,026 کروڑ روپئے اور پنشن کی ادائیگی 4158 کروڑ سے بڑھ کر 4311 کروڑ روپئے ہوگئی ۔ غریبوں کی فلاحی اسکیمات کے لیے حکومت کی طرف سے ادا کی جانے والی سبسیڈی لاگت 2695 کروڑ روپئے سے بڑھ کر 3354 کروڑ روپئے ہوگئی ۔ ریاستی حکومت کے جملہ اخراجات کا 44 فیصد اس طرح کی لازمی ادائیگیوں پر خرچ کرنا پڑتا ہے ۔ لیکن مجموعی طور پر دیگر اخراجات میں کمی کی وجہ سے گذشتہ سال کے مقابلے میں بہت کمی آئی ہے ۔ پہلے سہ ماہی میں ریاستی حکومت کے جملہ اخراجات 47,290 کروڑ روپئے سے گھٹ کر 45,320 کروڑ ہوگئے ۔۔ 2