کسی کو کابینہ وزیر کا درجہ ، کسی کو دیڑھ لاکھ سے کم تنخواہ
امتیازی سلوک کا بھانڈا پھوٹ گیا
حیدرآباد ۔ 14 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ حکومت میں مختلف محکمہ جات کے لیے مقرر کردہ 11 مشیروں کے درمیان تنخواہوں ، مراعات اور پروٹوکال کے فرق نے ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے ۔ پارٹی کے لیے محنت کرنے والے سینئیر قائدین اور مشیروں نے حکومت کے اس رویے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ کم تنخواہ اور کم اہمیت پانے والے مشیروں نے پارٹی حلقوں میں اب کھل کر اپنی ناراضگی کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے ۔ جس نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ تمام 11 مشیروں کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں کیا جارہا ہے ۔ صرف دو مشیروں ڈاکٹر کے کیشو راؤ ( عوامی امور ) اور پی سدرشن ریڈی ( فلاحی اسکیموں کا نفاذ ) کو ہی کابینہ کا درجہ دیا گیا ہے ۔ ان دونوں مشیروں کو ہی وزراء کے برابر تنخواہ ، بنگلہ ، گاڑی اور مکمل پروٹوکال حاصل ہے ۔ یہاں تک کہ یہ دونوں اہم کابینہ اجلاسوں میں بھی شرکت کرتے ہیں ۔ دوسری جانب باقی مشیروں کی تنخواہ دیڑھ لاکھ سے بھی کم بتائی جارہی ہے ۔ ایک ناراض مشیر نے اپنا دکھ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کا عہدہ ’ مشیر ‘ ہے پھر یہ امتیازی سلوک کیوں ؟ کیا ہمیں صرف نام کا مشیر بنایا گیا ہے ۔ ناراضگی صرف پیسوں تک محدود نہیں ہے بلکہ سیاسی وفاداری پر بھی سوال اُٹھ رہے ہیں ۔ ان میں یہ احساس پیدا ہورہا ہے کہ وہ قائدین جنہوں نے پارٹی کو اقتدار میں لانے کیلئے دن رات محنت کی انہیں دوسرے درجے کا مشیر بنائے رکھا گیا ہے ۔ ایسے قائدین جو انتخابات سے قبل یا کانگریس کو اقتدار حاصل ہونے کے بعد پارٹی میں شامل ہوئے انہیں کابینہ کے درجے اور بڑے عہدوں سے نوازا گیا ہے ۔ حکومت نے کئی اہم محکموں میں ریٹائرڈ عہدیداروں کو مشیر تعینات کردیا ہے جس سے محکموں کے موجودہ اعلیٰ عہدیداروں کی خود مختاری متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں ۔ مشیروں کے درمیان سماجی پس منظر کو لے کر بھی بحث چھیڑ گئی ہے ۔ یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ مخصوص برادریوں سے تعلق رکھنے والے مشیروں کو پروٹوکال اور اختیارات میں ترجیح دی جارہی ہے ۔ جب کہ دیگر کمیونٹیز کے نمائندوں کو انتظامی امور سے دور رکھا جارہا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی کانگریس پارٹی ماضی میں بی آر ایس حکومت کے ’ مشیروں کے کلچر ‘ پر کڑی تنقید کرتی تھی لیکن اب خود بھی اسی راستے پر چلنے کے الزامات کا سامنا کررہی ہے ۔ یہ مشیر دراصل سیاسی باز آباد کاری کا ایک ذریعہ بن گئے ہیں ۔ جس کا بوجھ سرکاری خزانے پر پڑ رہا ہے ۔۔ 2/m/b