تلنگانہ ریاستی اقلیتی اقامتی اسکولس کے نام بھاری رقم خرچ

   

7 سال کے دوران 2104 کروڑ 12 لاکھ خرچ کے باوجود تعلیمی معیار میں کوئی اضافہ نہیں
حیدرآباد۔7۔اگسٹ۔(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے سال 2016 تا 2022 کے دوران تلنگانہ ریاستی اقلیتی اقامتی اسکولوں کے لئے 2104 کروڑ 12 لاکھ سے زائد خرچ کئے جن میں طلبہ کی غذاء‘ عمارتوں کا کرایہ اور دیگر اخراجات شامل ہیں۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد کے سی آر حکومت کی جانب سے اقلیتوں کے لئے اقامتی اسکولوں کے قیام کے سلسلہ میں اقدامات کا آغاز کرتے ہوئے نئے اسکولوں کا آغاز کیاگیا اور 7 سال کے دوران 2104کروڑ12لاکھ سے زائد کی رقم خرچ کرتے ہوئے 204 اقامتی اسکولوں کا ریاست بھر میں آغاز کیا گیا ۔ ان اسکولوں کے آغاز اور ہزاروں کی تعداد میں عملہ کے تقرر کے علاوہ معیاری تعلیم کے نام پر کروڑہا روپئے خرچ کئے جانے کے باوجود اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کیوں نہیں کیا جاسکا حالانکہ اگر 2000 کروڑ ایک ادارہ کے ذریعہ خرچ کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں لاکھوں نونہالوں کی معیاری تعلیم کا انتظام خانگی اسکولوں میں کیا جاسکتا تھا لیکن سرکاری ادارہ کے قیام کے ذریعہ حکومت کی جانب سے شروع کی گئی اس اسکیم کے ذریعہ خرچ کئے جانے والے کروڑہا روپئے کے اخراجات کے باوجود کوئی ایسے نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں جن پر فخر کیا جاسکے۔بھارت راشٹرسمیتی حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود کے بیشتر تمام ادارو ںکو نظر انداز کرتے ہوئے اقامتی اسکولوں کے قیام کے لئے سب سے زیادہ رقومات مختص کی اور ٹمریز کے لئے حکومت کی جانب سے گرین چیانل سے بجٹ کی اجرائی عمل میں لائی جاتی رہی ۔ ٹمریز میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی عصری تعلیم کے لئے حکومت کی جانب سے جہاں کروڑہا روپئے خرچ کئے گئے وہیں کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلیٹی کے تحت آئی ٹی کمپنی کاگنیزینٹ کی جانب سے 4500 سے زائد کمپیوٹرس بطور عطیہ فراہم کئے لیکن ٹمریز کے عہدیدار ان کمپیوٹرس کی تفصیلات فراہم کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ پیشرو حکومت کے دور میں ٹمریز کیلئے ہزاروں کروڑ خرچ کئے جانے اور اقلیتی طلبہ کی تعلیمی ترقی کے ذریعہ انہیں بہتر تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کی کوششوں کے دوران کئی شکایات منظر عام پر آتی رہی لیکن اقلیتی طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے نام پر بیشتر تمام گوشوں سے خاموشی اختیار کی جاتی رہی اور حکومت کی جانب سے بھی ان شکایات کو نظرانداز کیا جاتا رہا لیکن اب جبکہ ریاست میں حکومت تبدیل ہوچکی ہے تو کئی حقائق کا انکشاف ہونے لگا ہے اور عہدیداروں کی شاہ خرچیوں کے علاوہ معمولی ملازمین کی گھریلو ضروریات کی بھی اس ادارہ کے ذریعہ تکمیل کے شواہد منظر عام پر آنے لگے ہیں اور اس بات کے انکشافات ہونے لگے ہیں کہ ادارہ میں تعلیم حاصل کرنے والے غریب ‘ یتیم اور مستحق طلبہ کیلئے حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے فنڈس میں تغلب کیا گیا یا اس کا مال مفت دل بے رحم کی طرح استعمال کیا گیا !آخر کیا وجہ ہے کہ اتنی بھاری رقومات کے خرچ ہونے کے باوجود دیگر طبقات کے اقامتی اسکولوں کی طرح نتائج برآمد نہیں ہوئے !!!!! جاری ہے ۔۔